Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مادری زبانوں کا عالمی دن

مادری زبانوں کا عالمی دن

مادری زبانوں کا عالمی دن

راشدعباسی

اکیس فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لسانی اور ثقافتی تنوع کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا اور یہ باور کروانا ہے کہ زبان کسی بھی قوم کی زندہ اور سانس لیتی ہوئی میراث ہے اور وہ صدیوں کی انسانی تہذیب، دانش اور اجتماعی تجربے کا خزانہ ہوتی ہے۔

 

آپ کو یہ سوچ کر حیرت ہو گی کہ کسی بھی زبان کو سب سے زیادہ خطرات اس کے بولنے والوں سے لاحق ہوتے ہیں۔ پاکستان میں کئی زبانوں کے بولنے والوں نے احساس کمتری کا شکار ہو کر خود اپنی مادری زبان سے منہ موڑ لیا اور نئی نسل کو ان کی شناخت کی بنیادی اکائی سے محروم کر دیا۔  حال آنکہ ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات متفق ہیں کہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں بہتر تعلیم دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ مادری زبان میں تعلیم سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ ملتا ہے۔

 

پاکستان میں مادری زبانوں کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں نہ ہونے کے باعث لسانی تنوع خطرے میں ہے۔ کئی زبانیں معدومی کے خطرات سے دوچار ہیں۔

 

کوئی بھی زبان فقط الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ وہ اس قوم کی صدیوں پر محیط دانش اور ورثے کی امین ہوتی ہے۔  لوک کہانیاں اور لوک گیت نسل در نسل سفر کرتے ایک تہذیبی تسلسل اور انسلاک کی کڑیوں کو ٹوٹنے سے بچائے رکھتے ہیں۔ محاورے اور ضرب الامثال کسی قوم کی زمانوں پر محیط حکمت اور دانش کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ ان میں صدیوں کی آزمائشوں، مشاہدات اور زندگی کی پیچیدہ حقیقتوں کو چند آسان لفظوں میں نہایت موثر انداز میں بیان کر دیا جاتا ہے۔ شاعری کسی زبان کی معراج ہوتی ہے، جو قوم کے ذوقِ جمال اور گہرے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

 

کسی قوم کی "حقیقی اور غیر متعصب تاریخ”  اس کے ادب سے اخذ کی جا سکتی ہے کیونکہ ادب میں عوام الناس کی اصل زندگی، ان کی سوچ اور ان کے اجتماعی شعور کا حقیقی عکس ملتا ہے۔

 

زبان کی بقا اور فروغ کے حوالے سے یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ اس کا تعلق تحریری کام سے ہے۔ صرف بولنے سے کوئی زبان معدومی کے خطرات سے دور نہیں ہوتی۔ ہمارا آئین اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ پرائمری تک تعلیم مادری زبان میں دی جائے۔ اس طرح بچے اپنی مادری زبان سے منسلک و مربوط رہیں گے۔ اس سے زبان کے محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ تخلیقیت کو بھی فروغ ملے گا۔ وہ زبانیں جو نصاب کا حصہ نہیں ہیں وہ معدومی کے خطرات سے زیادہ دوچار ہیں۔ جس زبان کے ساتھ کوئی معاشی سرگرمی وابستہ ہو اس کے فروغ کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اگر کسی زبان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم کا ذخیرہ جمع کر دیا جائے تو اس کی طرف بھی زیادہ لوگ راغب ہوتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں استعمال ہونے والی زبان کے فروغ کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔

 

اگر ہم پہاڑی زبان کی بات کریں تو بدقسمتی سے اس کے اپنے ہی اس کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ پاکستان میں اس کے فروغ کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر محمد صغیر ہوں، ممتاز غزنی یا راشد عباسی سب ذاتی وسائل استعمال کرتے ہوئے اشاعتی کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور لاکھوں روپے سالانہ اس مد میں خرچ ہو رہے ہیں۔

 

بدقسمتی سے کوہسار سے تعلق رکھنے والے صاحبان اقتدار اور اہل ثروت کو اس امر سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ان کی ماں بولی زندہ رہے یا قصہ پارینہ بن جائے۔ بلکہ کچھ عاقبت نا اندیش تو برملا یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ دنیا ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے ایسے میں جو لوگ مقامی ثقافت اور زبان کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں وہ اس ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ خدا جانے ترقی انھوں نے کس پرندے کا نام رکھا ہوا ہے۔

 

صاحبان اقتدار اور اہل ثروت کی اپنی ترجیحات ہیں۔ ہمیں ان سے کوئی توقع بھی نہیں ہے۔ لیکن عوام الناس سے ہمیں بہت امیدیں ہیں۔ وہ اپنی روایتوں اور قدروں کے ساتھ ساتھ اپنی زبان اور ثقافت سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481