پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے بیشتر واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے، جس کی بنیادی وجہ وہاں دہشت گرد عناصر کے لیے سازگار سیاسی ماحول کا موجود ہونا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے، جو سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بات ایک تفصیلی پریس کانفرنس کے دوران کہی، جس کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے اقدامات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر روشنی ڈالنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے اور ریاست و عوام اس معاملے پر مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سال 2025 دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک اہم اور نتیجہ خیز سال ثابت ہوا، جس کے دوران ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ ان میں سب سے زیادہ کارروائیاں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ برس ملک میں 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے اکثریت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 2597 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، تاہم اس جنگ میں 1235 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 2021 کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا، جس کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں حالات کی تبدیلی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں مختلف گروہ آزادانہ طور پر سرگرم ہیں اور سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں منظم کیا جا رہا ہے اور انہیں بیرونی حمایت بھی حاصل ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور وہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوج صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے اور کسی بھی قسم کے شہری نقصان سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں دراندازی کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جا رہا ہے اور دہشت گردوں کو سرحد پر ہی مؤثر جواب دیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے سیاسی، عسکری اور عوامی سطح پر یکسوئی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی ضمانت ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی ابہام کی گنجائش نہیں۔
