گلگت بلتستان کے ضلع چلاس سے اغوا ہونے والی لڑکی تین دن بعد بازیاب ہو گئی ہے۔ تھور ویلی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو محفوظ طریقے سے بازیاب کر لیا۔
چلاس کے علاقے تھور بڑوگاہ میں ماں کے قتل کے بعد شمیم نامی لڑکی کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ ایس۔ایچ۔او تھانہ تھور عبدالغفار کی قیادت میں پولیس ٹیم نے عمائدین کی مدد سے مغویہ لڑکی کو گیچی ٹاپ سے بازیاب کیا۔ اغوا کے وقت لڑکی کے ساتھ اغوا کاروں کی بہن بھی موجود تھی، جسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔
پولیس حکام کے مطابق شمیم گل خان کو بازیابی کے بعد ایس۔پی دیامر کے حوالے کر دیا گیا ہے اور کل اسے اس کے ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔ اغوا کار واقعہ کے دن ہی تھور کی حدود سے نکل گئے تھے اور محفوظ ٹھکانہ تلاش کرنے کے لیے گیچی پہنچے تھے۔
یاد رہے کہ تھور کے اس واقعے میں اغوا کے ساتھ فائرنگ کے دوران تین افراد زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، اور ایف آئی آر میں چھ ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید کارروائی کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور تمام ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
