مہاجرین نشستوں پر لیگل کمیٹی کا پہلا اجلاس بے نتیجہ
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا، جس کے باعث حتمی فیصلے میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر قائم کی گئی لیگل کمیٹی کا پہلا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا، جس کے باعث حتمی فیصلے میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے بنائی گئی 9 رکنی اعلیٰ سطح کی لیگل کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہوا، جس میں آزاد کشمیر حکومت اور وفاقی بیوروکریسی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پیپلز پارٹی لائرز ونگ کے جنرل سیکرٹری راجہ اعجاز احمد ایڈووکیٹ بھی اجلاس میں موجود تھے، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام نامزد ارکان غیر حاضر رہے۔
مسلم لیگ (ن) کے طاہر انور ایڈووکیٹ پہلے ہی کمیٹی ممبرشپ سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے نمائندے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، جس سے مہاجرین کی نشستوں پر قانونی اور آئینی فیصلوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے وزیر قانون میاں عبدالوحید اجلاس میں شریک تھے جبکہ وزارتِ قانون و انصاف کے ایڈیشنل سیکرٹری، قانونی مشیر اور کنسلٹنٹ بھی موجود تھے۔ کمیٹی کا مقصد مہاجرین کی نشستوں کے قانونی و آئینی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا تھا، لیکن جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور لبریشن فرنٹ کے نمائندوں کی غیر حاضری کے باعث یہ اجلاس بے نتیجہ رہا۔
