مولانا فضل الرحمان بھی تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم پر بیٹھنے سے گریز کر رہے ہیں، جو سیاسی صورتحال کے لیے حوصلہ افزا نہیں
حکومت کی جانب سے ایک بار پھر اپوزیشن سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ حکومت تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے خود کو مذاکراتی عمل سے الگ کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بھی تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم پر بیٹھنے سے گریز کر رہے ہیں، جو سیاسی صورتحال کے لیے حوصلہ افزا نہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے پر حتمی مؤقف وزیر اعظم ہی پیش کر سکتے ہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے مزید بتایا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں پیپلز پارٹی سمیت حکومت کے تمام اتحادی شامل ہوں گے، تاکہ مشاورت کو وسیع اور بامقصد بنایا جا سکے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے مطالبات میں نئے انتخابات کا انعقاد، نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور بانی پی ٹی آئی تک پارٹی رہنماؤں اور اہلِ خانہ کی رسائی شامل ہے۔
