تاجک فورسز نے افغان دراندازی ناکام بنا دی،3 حملہ آور ہلاک
تاجک سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنا دی، جس کے نتیجے میں دو تاجک سرحدی اہلکار جاں بحق اور تین حملہ آور ہلاک ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ تاجکستان کے صوبہ ختلان کے ضلع شمس الدین شاہین اور افغانستان کے صوبہ بدخشاں سے ملحقہ سرحدی علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے سرحدی فورسز پر حملہ کیا۔
تاجک نیشنل سکیورٹی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا، تاہم جھڑپ کے دوران دو اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
تاجک سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور ان سے وابستہ تنظیم کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
تاجک حکام نے واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان سے ہونے والی دراندازی اور تشدد کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے جس میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ سرحدی علاقوں میں بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ تاجکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکام سرحدی سکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ تاجک حکام نے واضح کیا کہ ملکی فورسز سرحدوں کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی غیر قانونی دراندازی یا جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
