Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سڈنی بونڈائی بیچ فائرنگ:حملہ آور پر فردِ جرم عائد

سڈنی بونڈائی بیچ فائرنگ:حملہ آور پر فردِ جرم عائد

سڈنی: بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے حملہ آور نوید اکرم کو گرفتار کر کے اس پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ گرفتار ملزم پر دہشت گردی سمیت 59 مختلف الزامات ہیں۔ پولیس کے مطابق قانونی کارروائی جلد مکمل کی جائے گی اور ملزم کو آئندہ سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ زخمی افراد کا علاج جاری ہے اور عوام سے علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں ملوث ساجد اکرم بھارت کے شہر حیدرآباد کا رہائشی ہے، جس کی شہریت اور سفری ریکارڈ کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی بھارتی میڈیا رپورٹس نے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ حملہ آور کا پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔

فلپائن کے امیگریشن حکام کے مطابق ساجد اکرم یکم نومبر کو فلپائن پہنچا، جبکہ اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا۔ دونوں نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں عسکری نوعیت کی تربیت حاصل کی اور 28 نومبر کو واپس آئے۔

اسپتال میں زیر علاج زخمی نوجوان احمد کی حالت بہتر ہو رہی ہے، جس کی بہادری کو آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے سراہا اور اسے حقیقی آسٹریلوی ہیرو قرار دیا۔

بونڈائی بیچ پر حملے کے تیسرے روز سوگ کا سلسلہ جاری رہا، جہاں ہزاروں شہری جائے وقوعہ پر پہنچے، پھول رکھے اور ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ 30 سالوں میں آسٹریلیا کا سب سے بڑا اجتماعی فائرنگ واقعہ تھا، جس میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے، جن میں حملہ آور بھی شامل ہے۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481