پنجشیر میں دو چیک پوسٹوں پر دھماکے،8 طالبان ہلاک
افغانستان کے صوبے پنجشیر میں دو سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ طالبان ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دھماکے عبداللہ خیل وادی کے منجنستو علاقے میں اُس وقت ہوئے جب طالبان کی ایک اہم آؤٹ پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ ایک ایسے کمپاؤنڈ میں کیا گیا جو مولوی ملک نامی شخص کی ملکیت بتایا جاتا ہے۔ واقعے کے فوراً بعد طالبان نے وادی کے کئی حصوں کو سیل کر دیا، آمدورفت محدود کر دی اور آس پاس کے رہائشیوں سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔
تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ طالبان حکام کی جانب سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ افغانستان کے دیگر علاقوں میں ایسی کارروائیوں میں اکثر داعش خراسان سرگرم رہی ہے، جب کہ پنجشیر میں مقامی مزاحمتی گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
پنجشیر وہ واحد علاقہ ہے جہاں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے باوجود مزاحمت جاری ہے۔ اس وادی کو ماضی میں بھی اہمیت حاصل رہی ہے، خاص طور پر سوویت یونین کے خلاف مزاحمت اور بعدازاں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں طالبان کے خلاف لڑائی کے دوران۔
طالبان حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد گزشتہ ایک سال میں پنجشیر میں وقفے وقفے سے دھماکے اور حملے سامنے آتے رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ علاقے میں اب بھی مزاحمت موجود ہے۔
