ایبٹ آباد (نوید اکرم عباسی)ایبٹ آباد کی فضاء سوگوار سراپا احتجاج ڈاکٹر وردا مشتاق کو شہید کر دیا گیا ۔
نعش ٹھنڈیانی کے علاقے لڑی بنوٹہ سے برآمد تفصیلات کے مطابق چار دسمبر کو ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی ڈاکٹر وردا مشتاق دوران ڈیوٹی گمشدہ ہونے پر انکے والد کی درخواست پر کینٹ اور میرپور پولیس نے تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر وردا نے کچھ عرصہ قبل دوبئی میں اپنے شوہر کے پاس جاتے وقت 67 تولہ سونے کے زیورات اپنی سہیلی ردا کے پاس امانت رکھاوے اور تحریر لی دوبئی سے واپس آنے کے بعد زیورات کی واپسی کے مطالبہ پر ٹال مٹول ہوتی رہی اور پھر اس روز ڈاکٹر وردا کو کہا گیا کہ سونا واپس لے لو ساتھ ہی اس سے ایک کروڑ سے زائد رقم کے چیک بھی لے لئے اور ایبٹ آباد کے ایک پوش ایریا میں لے جاکر کرایہ کے قاتلوں جنکا مبینہ طور پر منشیات فروش مافیا سے تعلق ھے کے حوالے کر دیا چار روز تک لواحقین اور ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پیرا میڈیکس سٹاف لواحقین کے بار بار احتجاج پر اغواء شدہ ڈاکٹر بازیاب نہ ہو سکی
جبکہ اس کی سہیلی اس کے ساتھ دیگر مشکوک افراد اسی روز پولیس نے حراست میں لے لئے تھے اور ان کی تفتیش کے بعد آج نواحی سیاحتی علاقہ ٹھنڈیانی کے علاقے لڑی بنوٹہ جو مبینہ منشیات فروش کا گاؤں ھے وہاں سے پولیس کو شہید ڈاکٹر وردا مشتاق کی نعش ملی جسکو ایبٹ آباد لایا گیا اس موقع پر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر تنظیموں کی طرف سے احتجاج شاہراہ ریشم فوارہ چوک سے بند کر کے نعرے بازی کی گی اور قاتلوں کی گرفتاری اور پولیس کی سستی پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا
