بھارت سے نئی لڑائی کا خطرہ موجودہے،وزیر دفاع- یہ سلسلہ 80 کی دہائی میں شروع ہوا، جب لاہور اور راولپنڈی میں دھماکوں کے واقعات پیش آئے تھے
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور خطے میں کشیدگی بدستور موجود ہے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ **پراکسی وار** کئی دہائیوں سے جاری ہے اور جدید جنگی حکمتِ عملیوں میں اہم ہتھیار بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ 80 کی دہائی میں شروع ہوا، جب لاہور اور راولپنڈی میں دھماکوں کے واقعات پیش آئے تھے، اور اب اس میں مزید شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مئی میں پیدا ہونے والی صورتحال کے فوراً بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک اور جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا، اور آج بھی یہ خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ برقرار ہے، اور کسی بھی وقت صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کی تصدیق عالمی سطح پر بھی کی جارہی ہے، جبکہ ان کے مطابق **امریکی صدر کی سفارتی کوششوں** نے کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ لڑائی کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
