پاکستان نے سرحد پار سے داخل ہونے والے خودکش (کامی کازی) ڈرونز کا موثر تدارک تیار کر لیا ہے۔ نیشنل الیکٹرونکس کمپلیکس (NEC) کی تیار کردہ "سفرا” ڈرون جیمنگ گن نے تجربات میں کامیابی دکھائی اور محدود فاصلے سے ڈرونز اور ان کے ریموٹ کنٹرول ڈیوائسز کو ناکارہ کرنا شروع کر دیے ہیں۔
کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ پاک بحریہ کی پائمیک نمائش میں اینٹی ڈرون جیمر گن کو پیش کیا گیا، جس کی حدِ کارکردگی تقریباً 1.5 کلومیٹربتائی گئی ہے۔ اس گن کے ذریعے کمرشل درونز کو نشانہ بنا کر یا ان کا کنٹرول حاصل کر کے زمین پر اتارا جا سکتا ہے۔
کمپنی کے منیجر حمزہ خالد نے بتایا کہ یہ نظام سرحدی تنصیبات پر نصب کیا جا سکتا ہے اور بڑے شہری ایونٹس میں بھی حفاظت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گن عمودی زاویہ تقریباً 30 ڈگری پر 1.5 کلومیٹر تک مؤثر رہتی ہے مگر زاویہ اور رینج ضرورت کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہے۔
حمزہ خالد نے مزید کہا کہ اگر سرحد پار سے ایک سے زائد ڈرون حملے کیے جائیں تو بھی یہ جیمنگ گن انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور دشمن کے ریموٹ کنٹرول سگنلز کو متاثر کرکے ڈرونز کو کنٹرول میں لے لیا جاتا ہے یا لینڈ کروایا جاتا ہے۔
پاکستان نے نیسل الیکٹرونکس کمپلیکس کی تیار کردہ سفرا ڈرون جیمنگ گن متعارف کرادی — 1.5 کلومیٹر تک ڈرونز اور ان کے ریموٹ کنٹرول کو ناکارہ کر کے انہیں زمین پر اتارنے کی صلاحیت۔ مناسب برائے سرحدی حفاظت اور بڑے شہروں کے ایونٹس۔
