Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وزیراعظم آزاد کشمیر کا استعفیٰ دینے کا امکان،مشاورت مکمل

وزیراعظم آزاد کشمیر کا استعفیٰ دینے کا امکان،مشاورت مکمل

وزیراعظم آزاد کشمیر کا استعفیٰ دینے کا امکان،مشاورت مکمل

مظفرآباد: وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے استعفیٰ دینے کے لیے مشاورت کا عمل مکمل کر لیا ہے، ذرائع کے مطابق وہ آج رات یا کل اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتے ہیں۔

سیاسی ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں وزیراعظم کی تبدیلی کا عمل حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری انوارالحق اپنے قریبی رفقاء سے مشاورت کے بعد اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) نے بھی اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کابینہ میں شامل متعدد وزراء نے پیپلز پارٹی کے نئے قائد ایوان کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے۔

آئینی ماہرین کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی موجود ہے۔
وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں صدر آزاد کشمیر اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے، اور ریاستی آئین کے تحت 14 روز کے اندر نئے قائد ایوان کا انتخاب لازمی ہوگا۔

موجودہ اسمبلی میں اگر وزیراعظم مستعفی ہوتے ہیں تو یہ چوتھا وزیراعظم منتخب کیا جائے گا۔ وزیراعظم اپنا استعفیٰ صدر آزاد کشمیر کو بھجوائیں گے۔

اگر اسمبلی سیشن میں ہوئی تو نئے وزیراعظم کا انتخاب فوری طور پر کیا جائے گا، بصورتِ دیگر صدر 14 دن کے اندر اجلاس بلانے کے پابند ہوں گے۔

آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد اسمبلی کے کل ارکان کے کم از کم 25 فیصد دستخطوں سے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ تحریک پیش کرنے والے ارکان کو آئندہ وزیراعظم کا نام بھی پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے تو آئندہ چھ ماہ تک دوبارہ تحریک پیش نہیں کی جا سکتی۔ وزیراعظم کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، بشرطیکہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع نہ ہوئی ہو۔

اسمبلی تحلیل کی صورت میں صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کریں گے، اور اگر صدر ایسا نہ کریں تو اسمبلی 48 گھنٹوں کے اندر خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔
اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں 90 روز کے اندر عام انتخابات کروانا آئینی طور پر لازمی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481