غزہ امن منصوبہ،اسرائیلی قیدیوں کا پہلا گروپ رہا کردیا
غزہ (نیوز ڈیسک): غزہ امن منصوبے کے تحت فلسطینی تنظیم حماس نے سات اسرائیلی یرغمالیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) کے حوالے کر دیا ہے۔ عالمی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ حوالگی غزہ کے علاقے دیرالبلاح میں عمل میں آئی، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کے لیے ریڈ کراس کی بسیں غزہ پہنچ چکی ہیں، جہاں اسرائیلی یرغمالیوں کو حماس سے لے کر ان کے بدلے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کا عمل آج صبح سے شروع ہو گیا ہے، تاہم اسرائیلی حکام کے مطابق ہلاک شدہ تمام یرغمالیوں کی لاشیں فوری طور پر واپس نہیں مل سکیں گی۔
ذرائع کے مطابق حماس کے قبضے میں 48 اسرائیلی یرغمالی تھے جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کی تصدیق ہوئی، جبکہ 26 کو اسرائیلی حکام مردہ قرار دے چکے ہیں۔
فلسطینی قیدیوں میں سے 1700 سے زائد وہ ہیں جنہیں غزہ سے گرفتار کر کے اسرائیلی جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا، جب کہ 250 قیدی طویل سزائیں کاٹ رہے تھے۔
ادھر غزہ میں جنگ بندی کے بعد تباہ شدہ علاقوں سے مزید 124 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں، جس کے بعد شہداء کی مجموعی تعداد 67 ہزار 806 اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار 66 ہو گئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق شمالی اور وسطی غزہ میں اب بھی سینکڑوں لاپتہ افراد ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ امدادی تنظیمیں محدود وسائل کے باوجود بازیابی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
