200 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 30 سے زائد چوکیوں پر قبضہ
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 11 تا 12 اکتوبر کی درمیانی شب سرحدی پٹی پر ہونے والے بڑے حملے کے ردِعمل میں پاک افواج نے موثر جوابی کارروائی کر کے 200 سے زائد طالبان اور وابستہ دہشتگرد ہلاک کیے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ جھڑپوں میں 23 بہادر سپاہی شہید اور 29 سپاہی زخمی ہوئے، جب کہ سرحدی کارروائیوں میں 30 کے قریب اہم مقامات و پوسٹس پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔
واقعہ کا خلاصہ
- آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ حملہ افغان سرحد کے طویل حصّے پر فتنہ الخوارج اور ان کے حامیوں نے کیا، جس میں فائرنگ اور بعض مقامات پر دراندازی شامل تھی۔
- پاک فوج نے حقِ دفاع کے تحت فضائی اور زمینی کارروائیوں میں طالبان کے متعدد کیمپس، پوسٹس اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا۔
- سرحد پار افغان علاقے میں موجود 19 افغان پوسٹس تباہ کی گئیں اور بعض اطلاعات کے مطابق دشمن کی 21 پوزیشنز پر وقتی طور پر قبضہ بھی ہوا۔
- ترجمان نے کہا کہ شہری جانی و مالی حفاظت کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اپنائی گئیں تاکہ غیر ضروری جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
آئی ایس پی آر کے مؤقف اور بین الاقوامی الزامات
آئی ایس پی آر نے افغان طالبان اور بھارت کو اس حملے کے سہولت کار قرار دیا اور کہا کہ طالبان حکومت کو اپنے علاقے میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف فوری، قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات کرنا چاہئیں۔ ورنہ پاکستان اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے دہشت گرد اہداف کو نیوٹرالائز کرتا رہے گا، اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
پاکستانی موقف اور مطالبات
پاک فوج نے کہا کہ علاقائی امن و سلامتی کے مفاد میں دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ ضروری ہے اور طالبان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش جیسے گروپس کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔ آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستانی قوم تعمیری سفارت کاری اور مکالمے کو ترجیح دیتی ہے، مگر اپنی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی۔
