گنڈاپور کو کس کی سفارش پر ہٹایا گیا
اسلام آباد: وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو تین خواتین کی سفارش پر ہٹایا گیا۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام “کوئسچن آور” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو سالانہ 500 ارب روپے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے ملتے ہیں، لیکن صوبے میں سی ٹی ڈی کو مضبوط کرنے کے بجائے یہ رقوم جلسے جلوسوں پر خرچ ہو جاتی ہیں۔
اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ 2018 میں ہمارے مینڈیٹ کو نظر انداز کیا گیا، لیکن ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پی ٹی آئی پارٹی کے اندر کون سا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ علی امین گنڈاپور کو تین خواتین کی سفارش پر ہٹایا گیا، اور اس کا مطلب ہے کہ جسے تین خواتین کی سفارش پر وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے، اس کی حیثیت محدود رہ جاتی ہے۔
مزید برآں اختیار ولی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سہیل آفریدی سے واقفیت تک نہیں رکھتے۔
