Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کےپی میں دہشتگردی لانے والااکیلاشخص فیصلوں کا حق نہیں رکھتا

کےپی میں دہشتگردی لانے والااکیلاشخص فیصلوں کا حق نہیں رکھتا

کےپی میں دہشتگردی لانے والااکیلاشخص فیصلوں کا حق نہیں رکھتا

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہناتھاکہ 2025 میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 3 ہزار 984 واقعات ہوئے، دہشت گردی کے 70 فیصد تک واقعات خیبرپختونخوا میں کیوں ہوئے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کون ہے وہ شخص جو یہ کہہ رہا ہے کہ آپریشن بند کریں اور بات چیت کریں، کون ہے وہ جو کہہ رہا ہے کہ اسے اپنی وہ صوبائی حکومت برداشت نہیں جو آپریشن کے خلاف کھڑی نہ ہو۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بات چیت کس سے کریں؟ خارجی نورولی محسود اور اس کے جتھے سے بات چیت کرلیں؟

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو کنفیوژ کیا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل آپریشن کرنے میں نہیں ہے، یہ کہتے ہیں کہ بچوں کے سرکاٹ کر فٹ بال کھیلنے والوں سے بات چیت کریں، ریاست اور عوام کو ایسے شخص کے فیصلے اور خواہش پر نہیں چھوڑ سکتے جو کے پی میں دہشت گردی واپس لانے کا اکیلا ذمہ دار ہو ۔

انہوں نے خارجیوں کے سہولت کاروں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کا اعلان کیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں گورننس قائم ہے، وہاں کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارےکام کررہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ آپریٹ نہیں کررہا، خیبرپختونخوا میں کیا ہورہا ہے، یہاں پر بجائے اس کے کہ دہشت گردی کو پرفارمنس، گورننس اور قانون کی عمل داری سے ختم کیا جائے، اس کو صوبائیت کا رنگ دیا جارہاہے اور اس پر سیاست کی جارہی ہے، کیا یہ بذات خود مجرمانہ عمل نہیں ہے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ کون ہے جو کہتا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی کی گارنٹی کابل دے گا، اس مجرمانہ بیانیے کی قیمت فوج، پولیس، بچے اوربچیاں ادا کررہےہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ آپ ہماری جان اور عزت پر سیاست کیوں کررہےہیں، ان سے پوچھیں کہ آپ دہشت گردی کے بیانیے کو کیوں سپورٹ کررہےہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481