اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری لفظی تناؤ کے دوران تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی پیشکش کر دی۔
تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کے آغاز پر پیپلزپارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
نقطہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس طرح کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں، ہمارے پارلیمانی لیڈر سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، اور سمجھ نہیں آتا کہ متنازعہ بیانات کیوں دیے جا رہے ہیں۔
راجہ پرویز اشرف کی تقریر کے بعد بطورِ احتجاج پیپلزپارٹی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
اسی دوران تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ پیپلزپارٹی “فرینڈلی فائر” کے بجائے جرات کا مظاہرہ کرے اور حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لے کر آئے۔
انہوں نے کہا، “نوراکشتی بند کریں، اگر واقعی اپوزیشن ہیں تو ابھی تحریک عدم اعتماد پیش کریں۔”
پیپلزپارٹی کے واک آؤٹ کے بعد پارٹی ارکان نے کورم کی نشاندہی کی، تاہم گنتی کے دوران کورم پورا نہ نکل سکا، جس پر اجلاس جمعرات 9 اکتوبر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
