عبدالمجید سالک۔صحافی،شاعر اور مصنف
عبدالمجید سالک علامہ اقبال کے قریبی رفقا میں سے تھے۔ 1915ء میں آپ ’’تہذیبِ نسواں‘‘ اور ’’پھول‘‘ کے مدیر رہے۔ 1916ء میں پٹھان کوٹ سے ’’فانوس خیال‘‘ نکالا جو ایک سال تک شائع ہوا جبکہ 1920ء میں مولانا ظفر علی خان کے ’’زمیندار‘‘ کی ادارت سنبھالی۔ آپ نے غلام رسول مہر کے ساتھ مل کر 1928ء میں ’’انقلاب‘‘ کا اجرا لاہور سے کیا‘ جو تیس سال تک جاری رہا۔ انقلاب میں شاعرِ مشرق کی زندگی کے بہت سے گوشوں کو محفوظ کیا گیا۔ علامہ اقبال کی وفات کے بعد اُن کی سوانح پر پہلی تصنیف ’’ذکرِ اقبال‘‘ عبدالمجید سالک نے ہی تحریر کی تھی۔ جبکہ آپ کی تصنیف ’’یارانِ کہن‘‘ میں بھی علامہ اقبال کا ذکر موجود ہے۔ آپ کا انتقال 27 ستمبر 1959ء کو لاہور میں ہوا۔
(تحریر و تحقیق: میاں ساجد علی‘ علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)
