بھارت کو فیصلہ کن جواب دیا،اب امن چاہتے ہیں:شہباز شریف
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے کر جنگ جیتی ہے، اب امن کی کامیابی چاہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا اور کشمیری عوام کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ ان کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا رہے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ دنیا آج شدید تنازعات، انسانی بحران اور دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جعلی خبروں اور پروپیگنڈے نے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کو بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور یاد دلایا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ دار ہونے کے باوجود شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ مشرقی سرحد پر بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا، جس میں بھارت کے سات جنگی طیارے تباہ کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی تو پاک بھارت جنگ خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس کردار پر امن کا نوبیل انعام پانے کے مستحق ہیں۔
اپنے خطاب میں شہباز شریف نے فلسطین کے مسئلے پر بھی بھرپور آواز بلند کی اور اسرائیلی مظالم کو شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ افغانستان کی عبوری حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ کریں۔
ماحولیاتی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ سیلابوں نے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، 2022ء کے سیلاب میں 34 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماحول دوست توانائی کو فروغ دے رہا ہے اور بنیادی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکا کے دورے کے دوران وزیراعظم کا واشنگٹن ڈی سی ایئرپورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک ہفتے میں تیسری ملاقات بھی ہوئی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔ صدر ٹرمپ نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہا اور اوول آفس کا خصوصی دورہ بھی کروایا۔
