قطر پر حملے کے بعد اسرائیل کا اگلا نشانہ کون؟
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور انقرہ میں اس پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے کہ اب ترکیہ بھی اسرائیل کے ہدف پر آ سکتا ہے۔ قطر پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل نواز تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں نے کھلے عام ترکیہ کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر رکن مائیکل روبن نے خبردار کیا کہ ترکیہ کو یہ بھروسہ نہیں ہونا چاہیے کہ نیٹو اس کی حفاظت کرے گا، جبکہ ایک اسرائیلی سیاستدان نے سوشل میڈیا پر واضح الفاظ میں کہا: ’’آج قطر، کل ترکیہ‘‘۔
اس بیان پر ترکیہ کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ صدر اردوان کے قریبی مشیر نے اسرائیل کو ’’صہیونی کتا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خاتمے کے بعد دنیا سکون کا سانس لے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل گزشتہ کئی ماہ سے میڈیا اور تھنک ٹینکس میں ترکیہ کو سب سے بڑا دشمن قرار دے رہا ہے۔ مشرقی بحیرۂ روم میں ترکیہ کی موجودگی، شام میں اثر و رسوخ اور غزہ کے عوام کے ساتھ ہمدردی کو اسرائیل اپنے مفادات کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی و اقتصادی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ’’گریٹر اسرائیل‘‘ پالیسی خطے کو کمزور اور تقسیم کرنے کی کوشش ہے تاکہ صہیونی بالادستی قائم رہ سکے۔
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں غزہ کے ساتھ ساتھ یمن، شام اور تیونس تک فضائی کارروائیاں کی ہیں جس سے ترکیہ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ترک ماہرین کے مطابق اسرائیل صرف دفاعی اقدامات نہیں کر رہا بلکہ ترکیہ کے ’’بلو ہوم لینڈ‘‘ نظریے کو محدود کرنے کے لیے قبرص اور شام میں فوجی و انٹیلی جنس سرگرمیاں بڑھا رہا ہے۔
ریٹائرڈ ترک ایڈمرل جیم گوردنیز نے خبردار کیا ہے کہ قبرص میں اسرائیل کی موجودگی، یونان اور یونانی قبرصی انتظامیہ کے ساتھ امریکی سرپرستی میں قائم شراکت داری دراصل انقرہ کو گھیرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی دوران قبرص کو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام فراہم کیے جانے کی اطلاعات نے ترکیہ میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ترکیہ اور اسرائیل براہِ راست جنگ سے گریز کریں گے لیکن اسرائیلی اشتعال انگیزی ترکیہ کو دفاعی نظام مضبوط بنانے اور خطے میں نئے اتحادی تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ امکان ہے کہ اسرائیل ترکیہ کو دبانے کے لیے روایتی جنگ کے بجائے پراکسی جنگوں اور خفیہ کارروائیوں کا سہارا لے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کی یہ جارحانہ حکمت عملی خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے؟ اور کیا ترکیہ اسرائیلی توسیع پسندی کے سامنے بند باندھ پائے گا یا آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی کھلے تصادم میں بدل جائے گی؟
