قطر سمجھتا ہے اسے دھوکہ دیا گیا،خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ قطر میں یہ احساس ہے کہ حالیہ تنازعات فلسطین سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ ان کے مطابق قطر پر اسرائیلی حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی کافی نہیں ہے اور اس مسئلے کا حل مسلم امہ کو خود تلاش کرنا ہوگا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا طالبان کے ساتھ بات چیت اور حماس کے سیاسی ونگ کے معاملے میں قطر کا کردار استعمال کرتا رہا ہے، مگر اب امریکا کا ایک بڑا اتحادی قطر میں حماس کی قیادت پر حملہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیل کے مفاد کو ترجیح دیتا ہے اور خطے میں کئی عرب ممالک اور ایران پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے سیاسی ونگ کو امریکا نے قطر میں لایا، اور خطے میں سب سے بڑا امریکی بیس بھی قطر میں واقع ہے۔ ٹرمپ کا قطر میں حالیہ دورہ بھی اسی تناظر میں ہوا۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ امن کی صورت میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک دن کے لیے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے، اور جب تک جنگ جاری ہے، ان کا اقتدار برقرار رہے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے کہ یہ جنگ ہمیں خود لڑنی ہے اور امریکا کو اسرائیل کے حملوں کے خلاف قطر کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
