Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اسمبلیاں ماردھاڑ یا ہنگامہ آرائی کیلئے نہیں بنیں،سعد رفیق

اسمبلیاں ماردھاڑ یا ہنگامہ آرائی کیلئے نہیں بنیں،سعد رفیق

اسمبلیاں ماردھاڑ یا ہنگامہ آرائی کیلئے نہیں بنیں،سعد رفیق

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اسمبلیاں ماردھاڑ یا ہنگامہ آرائی کیلئے نہیں بنیں
۔اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ اسمبلیاں جیسی بھی ہوں، اختلاف یا اتفاق رائے کے لیے بنتی ہیں نہ کہ مار دھاڑ یا ہنگامہ آرائی کے لیے۔سعد رفیق نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں پیدا ہونے والا حالیہ مسئلہ اسمبلی کے اندر ہی حل ہونا چاہیے اور اس کے لیے تمام جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رکنیت کی معطلی اسپیکر کا آئینی اختیار ہے، مگر اراکین کی مستقل رکنیت ختم کروانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگر اراکین اسمبلی کو اس طریقے سے باہر نکالنے کی روایت پڑی تو آنے والی اسمبلیاں بھی اسی راستے سے گزریں گی۔ پھر کل کو مسلم لیگ(ن)سمیت تمام جماعتیں اسی بہشتی دروازے سے نکالی جائیں گی۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جب یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمیٰٰ سے نکالا گیا تو وہ بھی اس اقدام کے خلاف تھے۔ میں نے تب بھی کہا تھا کہ وزرائے اعظم کو عدالتی پچھلے دروازے سے نکالنے کی روایت جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔سعد رفیق نے کہا کہ مفلوک الحال اور لاغر جمہوریت پر رحم کیا جائے، اپنی پگڑی کسی اور کے ہاتھ نہ دی جائے۔ انہوںنے کہا کہ سیاسی اختلافات کو پارلیمانی دائرے میں حل کیا جانا چاہیے اور جمہوری نظام کو مزید کمزور نہیں کرنا چاہیے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481