خان یونس،بم دھماکا میں 7 اسرائیلی فوجی ہلاک
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں فوجی آپریشنز شدت اختیار کر چکے ہیں۔ دھماکے کے بعد اسرائیلی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کر دی ہے، تاہم اب تک کسی مزاحمت کار کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایک اسرائیلی شہری کی لاش تل ابیب منتقل کر دی گئی ہے۔ یوناتن سمیر انو نامی یہ اسرائیلی شہری کچھ عرصہ قبل غزہ میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، اس کی لاش اب لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔
اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی غزہ میں تقریباً 50 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ روز بھی تین اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں برآمد کی گئی تھیں، جس سے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خان یونس میں حالیہ دھماکا فلسطینی مزاحمتی قوتوں کی منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد اسرائیلی فوج کے عزائم کو ناکام بنانا ہے۔ اس واقعے نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جب کہ خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
