Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

یوکرینی ڈرونز کا روسی ایئربیسز پر بڑا حملہ

یوکرینی ڈرونز کا روسی ایئربیسز پر بڑا حملہ

یوکرینی ڈرونز کا روسی ایئربیسز پر بڑا حملہ

حملہ ایسے وقت کیا گیا کہ جب آج استنبول میں روس یوکرین امن مذاکرات کا دوسرا براہِ راست دور متوقع ہے، تاہم دونوں کے مؤقف اب بھی شدید مختلف ہیں۔

پہلا مذاکراتی دور 16 مئی کو قیدیوں کے سب سے بڑے تبادلے کا سبب بنا، لیکن جنگ بندی کی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرین نے اتوار کے روز پانچ مختلف علاقوں میں روسی فوجی ایئر بیسز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد طیاروں میں آگ لگ گئی، آگ بجھا دی گئی ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ روس نے حملوں میں ملوث کچھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

یوکرین کی سیکیورٹی سروس (ایس بی یو) کا دعویٰ ہے کہ اُس نے روسی فوجی طیاروں کو 7 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اور یہ حملے روس کے فرنٹ لائنز سے ہزاروں کلو میٹر پیچھے ایئر بیسز پر کیے گئے ہیں۔

ایس بی یو کے مطابق اس آپریشن کو ’اسپائیڈر ویب‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد یہ روسی ایئر بیسز پر یوکرین کی سب سے بڑی اور مربوط کارروائی ہے۔

ایس بی یو کے ایک ذرائع نے مغربی میڈیا کو بتایا کہ ڈرونز کو روس کے اندر موجود ٹرکوں سے لانچ کیا گیا اور حملے میں روسی بمبار طیارے بڑی تعداد میں جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔

یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس آپریشن کی تیاری ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے تک کی گئی اور کارروائی میں 117 ڈرونز استعمال کیے گئے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اِس آپریشن کے بارے میں اُنہیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی، اور یوکرین کا یہ حملہ پہلے سے کہیں زیادہ مہارت سے کیا گیا ہے۔

ایس بی یو کے مطابق کارروائی میں 40 سے زائد طیارے نشانہ بنے، جن میں اسٹریٹیجک بمبار، روس کے چند بچے کھچے سرویلنس طیارے اور روس کے اسٹریٹیجک کروز میزائل کیریئرز کے 34 فیصد طیارے شامل ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481