| امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر صدارت منگل کو کراچی کے تاجروں کا ایک نمائندہ کنونشن منعقد ہوا جس میں شریک تمام تاجروں نے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر اہل غزہ و فلسطین سے اظہار یکجہتی، امریکی سرپرستی میں اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کی مذمت اور حکمرانوں کو جھنجوڑنے کے لیے ہفتہ 26اپریل کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت، تمام مارکیٹیں و دکانیں اور کاروبار بند کرنے کا اعلان کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی رکوانے کے لیے وہ اپنا کردار ادا کرے،
منعم ظفر خان نے کراچی کے تاجروں کے نمائندہ کنونشن کے بعد تاجر رہنماؤں کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کراچی کے تاجروں کاکنونشن رکھا جس میں شہر بھر کی چھوٹی و بڑی مارکیٹوں کی تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی اور متفقہ طور پر 26 اپریل کی ہڑتال کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ 26 اپریل کو کراچی میں بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، کراچی سے چترال پورا ملک بند ہو گا، تاجر کنونشن میں تاجروں نے ہڑتال کی حمایت کے ساتھ صہیونی مصنوعات کے بائیکاٹ مہم میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر کراچی تا چترال تاجر برادری کا متفقہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہ کرسکے، وہ پہلے ہی 26اپریل کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں، آج بھی انہوں نے ہڑتال کے سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کا پیغام بھجوایا ہے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ غزہ میں اس وقت انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ مسلم ممالک کے عوام پریشان اور دل گرفتہ ہیں اور غزہ کے بھائی، بہنوں، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں سے بھر پور اظہار یکجہتی کررہے ہیں۔
ہمارا غزہ کے بھائیوں کے ساتھ کلمہ طیبہ کا رشتہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصی کی طرف رخ کر کے 15 سال نماز ادا کی،اسرائیل نے فلسطین اور غزہ کا 90 فیصد انفرااسٹرکچر تباہ کردیا ہے۔ اہل غزہ و فلسطین تباہی کے باجود ایمانی قوت اور اللہ کے بھروسے پر ثابت قدم ہیں اور پوری دنیا کے انسانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ ہم زندہ ہیں اور ہماری مزاحمت اور جدو جہد جاری رہے گی، فلسطین کے بچوں کا لہو پوری دنیا کے لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ مغرب میں بھی یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ و طالبات ریلیاں نکال رہے ہیں اور سوال کررہے ہیں کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کہاں ہیں؟ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اوران کے فیصلے بھی کہیں نظر نہیں آرہے۔ کہاں ہے او آئی سی اور کہاں ہے عرب لیگ جو بنی ہی اس لیے تھی عرب ممالک کی حفاظت کی جائے گی۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں اور سپہ سالاروں کو مسجد اقصی اور اہل غزہ و فلسطین کے مسلمانوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔ مسجد اقصی حکمرانوں کے راستے تک رہی ہے۔ 26 اپریل کی ہڑتال گلوبل اسٹرائیک کی شکل اختیار کرے گی اور امت مسلمہ کے حکمرانوں کو جھنجھوڑے گی۔ گلوبل اسٹرائیک کے لیے مختلف ممالک سے رابطے جاری ہیں۔ کراچی کے تاجر، طلبہ، علماء، وکلا، اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، سول سوسائٹی سمیت تمام طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ 26 اپریل کی ہڑتال کو کامیاب بنائیں اور اہل غزہ و فلسطین کے مسلمانوں کے لیے فنڈ جمع کرنے کا بھی اہتمام کیا جائے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت نے اہل غزہ و فلسطین کے لیے غذائی اجلاس اور ادویات پر مشتمل کئی ٹرک روانہ کیے ہیں۔ اسرائیل پر کاری ضرب لگانے کے لیے یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ کراچی کھڑا ہوگا تو پورا پاکستان کھڑا ہوگا،ہم صیہونی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔ |
