مری کے علاقے گھوڑا گلی میں نوجوان کے بہیمانہ قتل کے خلاف اہل علاقہ اور ورثا سراپا احتجاج بن گئے۔گھوڑا گلی کے مقام پر میت سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا جس کی وجہ سے گزشتہ کئی گھنٹے سے مری کا آزاد کشمیر اور راولپنڈی اسلام آباد سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز 29 رمضان المبارک کو افطار کے وقت معمولی تکرار پر گھوڑا گلی کے نواحی علاقے دناہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان خاور عباسی کو آکاش عباسی اور اس کے ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا جس کے بعد ملزمان فرار ہو گئے۔
ورثاء اور اہل علاقہ نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا اور قاتل کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جس پر کئی گھنٹے بعد اے ایس پی مری مذاکرات کے لیے آئے اور یقین دہانی کرائی کہ عید کے روز صبح 10 بجے تک ہر صورت میں ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ورثاء نے مقررہ ڈیڈ لائن کا انتظار کیا تاہم قاتل کی گرفتاری عمل میں نہ آنے پر وہ ایک بار پھر میت لے کر گھوڑا گلی کے مقام پر آگئے اور راولپنڈی سے مری جانے والی شاہراہ بند کر کے احتجاج کرنے لگے۔
احتجاج کا سلسلہ کئی گھنٹے سے جاری ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے تاحال ملزم کی گرفتاری کے لیے نتیجہ خیز کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔احتجاجی مظاہرین کی تعداد سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں پہنچ گئی جن کا مطالبہ ہے کہ مری جیسے پرامن علاقے کو قتل و غارت گری کا جہنم بنانے سے روکنے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کرے اور قاتل کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور نشان عبرت بنایا جائے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج پرامن ہے وہ صرف انصاف چاہتے ہیں۔دوسری طرف مقتول خاور عباسی کا گھر عید کے دن ماتم کدے میں تبدیل ہو چکا ہے جبکہ آس پاس کے پورے علاقے اور کوہسار کہ خطے کی فضا سوگوار ہے
مری میں نوجوان کے بہیمانہ قتل کیخلاف احتجاج۔شاہراہ بند
