کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے،عبد القیوم نیازی
اسلام آباد(خبرنگار) صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر و سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی نے ہندوستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے والی نئی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے کیلئے معاملہ عالمی فورمز پر اٹھایا جائے۔ میرواعظ کے والد ڈاکٹر غلام سبطین مسعودی کا نماز جنازہ قابض ہندوستانی افواج نے جامعہ مسجد سری نگر میں ادا نہ کرنے دی گئی جو مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔ ماہ مقدس میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو مذہبی کئی پابندیوں کا سامنا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے ، عالمی برادری بھارت کے فاشسٹ اقدامات کو لگام دینے کیلئے ٹھوس اقدام کرے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی نے اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ پر مختلف وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی سے ڈپٹی جنرل سیکرٹریز راجہ سبیل ، عمر شہزاد ، ضلعی صدر بھمبر چوہدری آصف و دیگر نے ملاقات کی اور پارٹی امور سمیت سیاسی صورتحال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ عالمی برادری اسرائیل اور بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال بھی سری نگر میں نماز تراویح کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے جہاں شراب پر پابندی عائد ہے۔غیر مسلم آباد کاروں کی آمد کی وجہ سے مقبوضہ حکومت شراب کی فروخت پر پابندی ختم کررہی ہے لہذا رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مقبوضہ کشمیر میں شراب کو سرعام سڑکوں پر فروخت کیا جائیگا جس کا مقصد مسلمان معاشرے کے معاشرتی اقدار کو تباہ کرنا اور مسلمانوں کو ذہنی ازیت میں مبتلا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی قابض حکومت کے حکام نے رمضان المبارک کی آمد پر ڈاکٹر قاسم فکتو کو ہریانہ گڑگاؤں جیل منتقل کردیا ہے تاکہ مزاحمت کی آوازوں کو مزید دبایا جاسکے۔ انہوں نے کشمیری رہنماؤں مسرت عالم بھٹ ، یاسین ملک ، شبیر شاہ ، محترمہ آسیہ آندرابی ، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی اور دیگر کو مختلف الزامات کے تحت دیگر کی طویل قید پر بھی اظہار تشویش کیا۔
