ہماری عمرِعزیز ابھی دس سال کی ہوئی ہوگی جب ہم نے شوقیہ پہلا روزہ رکھا. گرمیوں کے دن تھے، ہماری دادی جان سو سال کی عمر پر تھیں، ہم نے روزہ تو رکھ لیا مگر بار بار دادی جان سے پوچھتے
"اماں روزہ پانی نال تے نہا پہجنا ؟” اور وہ زیرِ لب مسکرا دیتیں، گاوں میں نئی نئی بجلی کی آمد ہوئی تھی، نگری بازار میں فقط چند دکانیں تھیں، وہ بھی بزرگ لوگوں کی جو بارہ بجے بند کر کے” نکی مسیت ” میں روزہ” لہاڑنے ” چلے جاتے اور ہمارے گاؤں کے واحد پنکھے کی ہوا کا لطف لیتے اور سوجاتے.. ” پیشی” کی نماز تک …چاچا پُہلا دکاندار کا قول زرین تھا کے بس بارہ بجے تک روزہ چڑھائی لگا رہتا ہے اور مشکل ہوتا ہے بارہ کے بعد اُترائی لگتا ہے تو پتہ ہی نہیں چلتا.
خیر اُس دور میں روزہ کُشائی کی کوئی تقریب نہیں ہوتی تھی، ہماری ڈیوٹی میں شامل تھا کہ ہم والدصاحب کا حقہ "چانجا "( تروتازہ) کرتے تھے. کچے مکان کے "بیڑھے ” پانی کا چھڑکاو کر کے "کھہٹ "ڈال دی جاتی. باول کا تازہ پانی بھر کر لایا جاتا جو باری پر بھرا جاتا تھا. دوچار بار ہم نے پانی پی کر روزہ توڑنے کا ارادہ کیا، پھر یہ سوچ کر توڑ دیا ارادہ ،روزہ نہیں کہ شام کو ہماری لیے خالص گھی کا باٹ بننا تھا اور گُڑ کا شربت سو ہم نے جیسے تیسے شام تک روزے کی” گڈی چھک کھڑی ” جس پر ہمیں شاباش کے علاوہ ایک روپیہ انعام بھی ملا. رات کو ترویح پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا کے نمازی تو نماز پڑھتے، ہم مسجد کے صحن میں سنگیوں کے ساتھ” کوڈی” کھیلتے جس پر بہت دفعہ ہماری بےعزتی شریف بھی ہوتی مگر عمر نادانی کی ایسی چیزوں کی کب پروا کرتی ہے
ہمارے گراں کے چند نامور” کھوجہ مار ” جو ویران مقامات پر تاش کی بازی لگاتے تھے ہمارے دن بھر کے کھانے پینے کا کارن بنتے تھے. ہم بازار کی واحد دوکان چاچا ریاض مرحوم پکوڑہ سموسہ جلیبی سنٹر سے کھوجا ماروں کے لیے سامان لیتے اور آدھے سے زیادہ رستے میں خودکھاجاتے، جس پر وہ غصہ تو ہوتے مگر کہہ کچھ نہیں سکتے کہ ہم آگے سے کہتے "استاداں کی دسسّاں ” یہ جملہ اُن کی کمزوری تھا کہ ایک کھوجامار کی ہم نے شکایت لگائی تو اگلے جمعہ کا خطبہ اُسی پر استادوں نے مکمل کیا، جس سےاُس کی سارے گراں میں بےعزتی ہوئی، سو سارے کھوجا مار ہم سے خوف کھاتے اور ہماری خدمت کرتے.
ہمارے ایک اور کھوجامار جن کے بارے میں مشہور تھاکہ جان چلی جاۓ روزہ نہیں توڑتے، ایک بار منہ میں "ساوی” نسوار رکھ کر مسجد چلے آۓ، اب وہ نکالنا بھول گۓ ..جیسےہی منہ پرے کر کے نکالنے لگے ہم نے دیکھ لیا. پھر تو "ساڈیاں موجاں ہی موجاں” موصوف کراچی پلٹ تھے بس پانچ روپے سکّہ ِ رائج الوقت ہم اُن سے روز لیتے یہ کہہ کر کہ "استاداں کی دساں "؟ تو وہ چپکے سے پانچ کا نوٹ ہماری جیب میں ڈال دیتے اور ہم نودوگیارہ ہوجاتے..
ہماری دادی جان کو افطاری کا سامان "کھٹ” پر دیا جاتا جو وہ پیرانہ سالی کے باوصف اذان سے پہلے ہی افطار کر لیتیں، کیوںکہ وہ
"کُکو” بولنے پر روزہ کھولتی تھیں، یہی اُنکا طرز ِزندگی تھا کہ اُن کے زمانے میں لاؤڈسپیکر نہیں ہوتے تھے
مسجد کے لاؤڈسپیکر پر ہم دوستوں میں جنگِ پلاسی ہوتی تھی ازان دینے پر… نئی نئی چیز تھی سب کو شوق تھا مولانا فیاض صاحب نے ہمارےاوقات مقّرر کررکھے تھے. آج کل تو بچوں میں وہ شوق ہی نہیں رہا، چونکہ مصروفیت کے نۓ اسباب میسّر آگۓ ہیں، ہمارے دور میں ایسا کچھ نہیں تھا. ہمارے گاوں کے ایک بزرگ جن کوسب چاچا رُکھو کہتے تھے وہ "تّمِراور دُرّنے” کی کمال چٹنی بناتے تھے جو روزے داروں میں تقسیم کرتے تھے ایک بار رات کو دوبجے لاؤڈ سپیکر کھول کر فرمایا
"رتی پراندی اے
سادیا ساہیں رُکھو دنیا داء پہی لاندی اے ”
اور سپیکر بند کر دیا. سارا دن بازار میں اس اعلان پر بحث ومباحثہ ہوتا رہا کے باواجی نے یہ کیا کہا اور وقت کون سا تھا اب اللہ والوں کی باتوں کا کوئی وقت ہوتا ہے کیا ؟
آج اُن کھوجاماروں کی "ہک ہک گٹھ داڑھیاں” ہیں
اور وہ پکے روزہ دار بھی ہیں.. زمانہ ِجاہلیت گُزر گیا
اب نہ وہ دور رہا نہ وہ لوگ رہے نہ وہ ہم رہے نہ وہ تم رہے… بس نام رہے گا اللہ کا
