رات سے بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور بجلی بھی انکھ مچولی کھیل رہی تھی رات کو ہی واٹس ایپ گروپ میں جناپ ڈاکٹر کامران خان کا میسج دیکھا کہ دو مارچ کو راول ریسٹورنٹ بہارہ کہو ہیں جناب محترم پروفیسر اشفاق کلیم صاحب کے پہلے ارڈو شعری مجموعے ساعت دید کی تقریب رونمائی ہے جس میں دعوت عام تھی میری چونکہ پنڈی مری اسلام اباد کے جو علمی ادبی حلقے ہیں ان سے خاص انسیت ہے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے، کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی ادیب و شاعر کی کتاب کی رونمائی ہو رہی ہو تو اس میں ضرور شرکت کی جائے اور چونکہ پروفیسر صاحب سے میری تعلق خاص اور رشتہ داری بھی ہے وہ میرے محسن بھی ہیں جب میری پہلی کتاب دیدہ دل شائع ہوئی تو اس کی تقریب رونمائی لارنس کالج مری میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد کی گئی تھی اور میری کتاب کے تجویز کنندہ پروفیسر اشفاق کلیم صاحب ہی تھے اور اس لحاظ سے وہ میرے محسن بھی ہیں.
میرے علمی ادبی کام کو انہوں نےآگے بڑھانے میں مدد کی، یہ قابل ستائش بات ہے اس کے علاوہ وہ مری کی سیاسی و سماجی شخصیت بھی ہیں اور لوگوں کے کام کاج بڑھ چڑھ کے کرتے ہیں اور علم و ادب اور ماں بولی کے فروغ کے لیے ان کی کاوشیں قابل ستائش ہیں تو ایسی صورت میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اس تقریب کو نظر انداز کیا جاتا کو کہ بارش نے بہت پریشان کیا گھر سے نکل نہیں پا رہا تھا لیکن جب اپ کی نیت ہو ارادے ہوں تو کام ہو ہی جایا کرتے ہیں ،میں عصر کے بعد چل پڑا جب راول ریسٹورنٹ کے نیچے کھڑا ہوا تو دیکھا کہ صاحب کتاب اوپر استقبال کے لئے کھڑے ہیں،بارش کی وجہ سے پروگرام میں تاخیر ہوئی ،پروفیسر اشفاق کلیم صاحب نے مجھے نظامت کے لئے کہا انکار نہ کر سکا جب کہ میرا طریقہ کار یہ ہے کہ جب بھی میں کسی پروگرام کی نظامت کرتا ہوں یا سٹیج سیکرٹری ہوتا ہوں تو دو تین دن پہلے میں اس کی باقاعدہ تیاری کرتا ہوں اور اس کے لیے اشعار چنتا ہوں لیکن اس طرح بہت کم پروگرام کرتا ہوں لیکن چونکہ ان سے خاص انس بھی ہے محبت بھی ہے تو انکار نہ کر سکا،
تقریب کے صاحب صدارت حافظ عثمان عباسی تھے. مہمان خصوصی اختر رضا سلیمی صاحب ڈائریکٹر اکادمی ادویات اسلام اباد اور دیگر شرکاء میں ڈاکٹر عابد عباسی، ڈاکٹر کامران خان ،حافظ سعید، مہرین انور راجہ، عثمان عباسی ،حماد سکندر، دانش عباسی، سعید عباسی سیف سعید حسنات عباسی عبدالمنان بشیر عباسی تصدق عباسی تبارک عباسی پروفیسر اشفاق صاحب کے گھر سے ائی خواتین ،طلبا و طالبات ،میڈم زبیدہ عباسی مری اور بہارہ کہو سے ائے ہوئے ادب کے شائق جو بارش کے باوجود اپنی گونہ گومصروفیات کو پس پشت ڈال کر ذوق و شوق سے شریک ہوئے اور اخر تک پروگرام میں براجمان رہے اس پروگرام میں سہراب عباسی صاحب ،پروفیسر کامران خان صاحب ڈاکٹر عابد عباسی صاحب حافظ سعید صاحب اختر رضا سلیمی مہمان اعزاز، مہرین انور عباسی مہمان خصوصی اور پروفیسر اشفا ق کلیم صاحب اور حافظ عثمان صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پروفیسر اشفاق کلیم صاحب نے اپنی مترنم اواز میں اپنا کلام پیش کیا جسے بہت سراہا گیا پروگرام خاصا کامیاب رہا اور اخر میں ادب کے شائقین نے کتب خریدیں اور تمام مہمانوں کی تواضع چاے اور لوازمات سے کی گئی اور ایک خوبصورت تقریب بارش کی رم جھم میں اختتام پذیر ہوئی جو ہمیشہ یادگار رہے گی اس تقریب کی تصویری جھلکیاں اپ کے لیے پیش خدمت ہیں۔
