گزشتہ دنوں اغوا ہونے والے مری کے علاقے سوراسی کے دو نوجوانوں کی رہائی کے لیے ڈاکوؤں نے اہل خانہ سے دو کروڑ تاوان طلب کر لیا ہے۔
شفقت اور اویس ستی سوشل میڈیا پر گاڑی دیکھ کر خریدنے کے لیے لاہور گئے تھے جہاں سے مبینہ طور پر انہیں ٹریپ کر کے سندھ کے علاقے کشمور میں بلالیا گیا اور کچے کے ڈاکوؤں نے انہیں زنجیروں سے جکڑ دیا۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر دیکھ کر گاڑی خریدنے کے لیے لاہور جانے والے مری کے نواحی علاقے سوراسی کے رہائشی دو نوجوان کچے کے ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گئے.
شفقت ستی اور اویس ستی 5 فروری کو آن لائن گاڑی دیکھ کر خریدنے کی غرض سے قصور پہنچے، جہاں سے کچے کے ڈاکووں نے دونوں کو اغواء کر لیا. بعد ازاں نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور برہنہ حالت میں اویس ستی کی ویڈیو بنا کر گھر والوں کو بھیجی اور دو کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا. ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بندوق کی نوک پر نوجوان کو گھر والوں سے پیسوں کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے.
دوسری طرف انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نوجوانوں کی بازیابی کے لئے خاطر خواہ اقدامات بھی نہ کر سکے. متاثرہ اہل خانہ نے بھی حکومت سے دونوں مغوی بھائیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے.
دریں اثناء مری سے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی بلال یامین ستی نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے مغویوں کے اہل خانہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان نوجوانوں کو لاوارث نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ ان کی رہائی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
