Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تحریک عدم اعتماد باجوہ کے کہنے پر لائی گئی، مولانا فضل الرحمان

تحریک عدم اعتماد باجوہ کے کہنے پر لائی گئی، مولانا فضل الرحمان

تحریک عدم اعتماد باجوہ کے کہنے پر لائی گئی، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد جنرل (ر) باجوہ کے کہنے پر لائی گئی، تحریک عدم اعتماد کے وقت جنرل (ر) باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید رابطے میں تھے۔

 

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا، عدم اعتماد کی تحریک پیپلزپارٹی چلا رہی تھی،

 

چاہتا تھا تحریک کے ذریعے اس وقت کی حکومت ہٹائی جائے، فیض حمید میرے پاس آئے اور کہا جو کرنا ہے سسٹم کے اندر رہ کر کریں، سسٹم میں رہ کر کرنے کا مطلب اسمبلیوں میں رہ کر کرنا ہے، میں نے انکار کر دیا تھا۔

فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اے کے لوگ، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم والے آئے تو پھر کہا گیا کہ ہمارے پاس اب اکثریت ہے، عدم اعتماد سے انکار کرتا تو کہا جاتا میں نے بانی پی ٹی آئی کو بچایا۔

انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کے لوگ اور اتحادی ٹوٹ کر ہمارے پاس آرہے تھے تو جنرل باجوہ اور جنرل فیض ہمارے ساتھ رابطے میں تھے، ریٹائرڈ جنرل باجوہ اور جنرل (ر) فیض کی موجودگی میں سب جماعتوں کو بلایا گیا اور کہا گیا کہ آپ کو اس طرح سے کرنا ہے، جنرل باجوہ اورجنرل فیض نے عدم اعتماد کے حوالے سے تمام جماعتوں کو کہا کہ آپ لوگوں کو کس طرح سے کیا چیز کرنی ہے، اس پر بعد میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مہر لگائی۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ دھاندلی 2018 میں بھی ہوئی تھی، اب بھی ہوئی، بظاہر الیکشن میں دھاندلی کا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہوا، اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481