پہاڑی زبان کے صاحب اسلوب شاعر اور کوہسار یونیورسٹی مری کے پروفیسر جناب اشفاق کلیم عباسی کا اردو شعری مجموعہ "ساعت دید” زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکا ہے۔
144 صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت شعری مجموعہ آواز پبلی کیشنز، اقبال مارکیٹ ، کمیٹی چوک ، راولپنڈی کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے۔
جانے اس ذات کا لوگوں میں تصور کیا ہے
میں تو بس ماں کی محبت سے خدا تک پہنچا
خدا ہوتے تھے پہلے آسماں پر
روایت اب بدلتی جا رہی ہے
نقش عہد ماضی کے ٹوٹتے بکھرتے ہیں
اپنی رائیگانی کا جب خیال آتا ہے
جہاں کی آنکھ سے اوجھل، دیا بناتا رہا
میں ظلمتوں میں بھی اک راستہ بناتا رہا
اک طرفہ رسم یہ بھی ہے دور جدید کی
نام حسین لی گئی بیعت یزید کی
معاشی الجھنوں میں خواہشیں ہر دم سسکتی ہیں
ہلال عید کیسی تلخیوں کو ساتھ لایا ہے
عشق کا بوجھ اٹھانا کوئی آساں تو نہیں
بیٹھ جاتے ہیں فلک سر پہ اٹھانے والے
شام کے سرمئی دھندلکوں میں
دیپ جلتے ہیں کوہساروں پر
میری پلکوں پہ آس کی شمعیں
یا دیے جس طرح مزاروں پر
تمناؤں کی میلی پوٹلی میں
تمہاری یاد کے موتی بندھے ہیں
ہماری رائیگانی کا اثاثہ
یہی بجھتے چراغوں کا دھواں ہے
اب تو کچھ شکوہ نہیں ہم کو دل ناکام سے
مطمئن بیٹھے ہیں گھر کو پھونک کر آرام سے
ان شاءاللہ بہت جلد اس شعری مجموعے کی تقاریب پذیرائی مری، بھارہ کہو اور اسلام آباد میں منعقد ہوں گی۔
راشد عباسی
