
آزادکشمیر کی حکومت اور سیاسی جماعتوں سے یہ سمجھ لیا کہ دفاع اور خارجہ امور حکومت پاکستان کے سپرد ہونے سے وہ ان امور سے لاتعلق ہو گئے ہیں،جبکہ معاہدہ کراچی میں آزاد کشمیر کے دفاع اور خارجہ امور کو حکومت پاکستان کے سپرد کرنے کے امور شامل کرنے سے ہی واضح ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کے دفاع اور خارجہ امور کی نوعیت پاکستان کے دفاع اور خارجہ امور سے الگ طور پہ بھی ہے۔آزاد کشمیر کی حکومت ،سیاسی جماعتیں کشمیر کاز سے متعلق ان امورسے لاتعلق نہیں ہوجاتیں بلکہ ا ن کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کاز سے متعلق دفاع اور خارجہ امور سے متعلق حکومت پاکستان سے قریبی رابطہ استوار رکھیں ، اس بات پہ زور دیں کہ کشمیر کاز سے متعلق ان امور پہ حکومت پاکستان نے کیا کیا ہے اور کیا کرنے کا ارادہ ہے۔
صرف آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کے تمام خطوں کے عوام کی نمائندگی میں کام کرنا آزاد کشمیر حکومت اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔کشمیریوں کے حقوق و امنگوں کی وکالت اس کی بنیادی ذمہ داری ہے ، جس سے یہ چشم پوشی نہیں کر سکتی۔کشمیریوں کی نمائندگی کی ذمہ داری کے طور پرآزاد کشمیر حکومت سفارتی کوششوں میں مشغول ہو سکتی ہے،مختلف ملکوں، عالمی تنظمیوں سے رابطے کر سکتی ہے۔ متنازعہ ریاست کے تمام خطوں کے عوام کے درمیان رابطے و تعاون کے لئے متحرک ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے آزاد کشمیر حکومت سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، کمیونٹی لیڈرز اور سٹیک ہولڈرز کا تعاون بھی حاصل کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کے مطابق کام کر سکتی ہے۔ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے متحرک ہو سکتی ہے۔کشمیریوں کی نمائندگی میں پاکستان کی حکومت، اداروں سے کشمیر کاز سے متعلق مسلسل رابطے، باز پرس کا کام کر سکتی ہے۔لیکن افسوس ، آزاد کشمیر حکومت اور سیاسی رہنما بھی سرکاری ملازمین کے انداز میں تابعداری میںمحدود نظر آتے ہیں۔
آزاد کشمیر کی ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی اس بات کا اعادہ کرتی رہتی ہے کہ وہ کشمیر کاز سے متعلق اپنا کردار بھر پور طور پر ادار کریں گے لیکن عملی طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔1987میںآزاد کشمیر میں کشمیر لبریشن سیل کا قیام کشمیر کاز سے متعلق علمی سطح کے کام، ڈاکومیٹیشن کی حوالے سے عمل میں لایا گیا تھا لیکن آزاد کشمیر کی حکومتوں نے آزادکشمیر میں کشمیر کاز سے متعلق واحد اس ادارے کو بھی مقامی، قبیلائی مفادات کی بھینٹ چڑھایا دیا۔پاکستان کی حکومت، اسٹیبلشمنٹ جب یہ دیکھتی ہیں کہ آزاد کشمیر کی حکومت، سیاسی جماعتوں کی طرف سے کشمیر کاز کا تذکرہ محض اپنی اہمیت جتلاتے ہوئے مزید مفادات کے حصول، سیاسی قد کاٹھ میں اضافے کے لئے ہی کیا جاتا ہے، عملی طور پر اپنے وسائل میں اس حوالے سے کچھ نہیں کیاجاتا ، تو وہ آزاد کشمیر حکومت ، سیاسی رہنمائوں کے اس مطالبے کو غیر سنجیدہ اور محض ایک سیاسی حربے کے طور پہ ہی دیکھتے ہیں کہ آزاد کشمیر حکومت، آزاد کشمیر کے سیاسی رہنمائوں کو کشمیر کاز کے حوالے سے کردار
تفویض کیاجائے۔
آزاد کشمیر ہو یا پاکستان، کشمیر پہ بات ہو تو یہی کہا جاتا ہے کہ تمام سیاسی ، مذہبی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کر کے مسئلہ کشمیر پہ اتفاق رائے کیا جائے جبکہ کشمیری تو1990سے یہ دیکھتے آرہے ہیں کہ آزاد کشمیر، پاکستان، بیرون ملک کشمیر پہ کانفرنسیں ہوتی ہیں، اتفاق رائے کیا جاتا ہے لیکن اس بات پہ کوئی توجہ نہیں دی جاتی کہ موجودہ صورتحال میں کرنا کیا ہے؟ ان پہ کیا ذمہ داری عائید ہوتی ہے؟یہی وجہ ہے کہ ایسی کانفرنسوںکو محض ایک پروپیگنڈہ سٹنٹ کے طور پہ ہی دیکھا جاتا ہے اور حکومتوں، سیاسی رہنمائوں ، این جی اوز کے ایسے اجتماعات سے کشمیری کوئی توقع،کوئی امید وابستہ نہیںکر سکتے۔
گزشتہ دنوں پاکستانی میڈیا پہ بالخصوص یہ سوال اٹھایا گیا کہ مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورت حال میں پاکستان کے پاس کیا آپشنز موجود ہیں؟ سوال تو اچھا ہے لیکن اس کا جواب مناسب طور پر سامنے نہیں آ سکا، باوجود اس کے کہ جواب دینے والوں میں سیاستدان، دانشور، صحافی، سابق سفارت کار بھی شامل تھے۔شاید اس کی وجہ مسئلہ کشمیر میں دلچسپی اور اخلاص میں کمی ہے۔حکومتی، انتظامی، سیاسی اور میڈیا کے محاذ پہ ایسے کئی اقدامات تجویز کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان اپنے وسائل، موجودہ صورتحال کے باوجود کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور ان اقدامات کے اٹھائے جانے سے پاکستان کو درپیش کئی مسائل اور خطرات کا بھی بہتر انداز میں کائونٹر ہو سکتا ہے۔
اطہر مسعود وانی
03335176429
