اپنے وطن سے ایک ہزار میل دور مشرقی پاکستان میں جو ان کی آنکھوں کے سامنے متحدہ پاکسان کے صوبے سے ایک نیا ملک بن گیا،جو اپنی دھرتی کےلیے بے جگری سےلڑے،جن کی نگاہیں اسلام آباد میں اپنے سالار اعلی اورصدر پاکستان کے احکامات کی منتظر رہیں،جن کے کان اپنے ہی سابق ہم وطنوں کے نفرت بھرے نعروں سے پھٹتے رہے،جن کا حوصلہ ایسٹرن کمانڈ کے ٹائیگر نیازی سے ہزار گنا زیادہ تھا۔
وہ جو ہر طرح کے نامساعد حالات میں بھی سینہ سپر رہے،جن کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ دشمن کے لیے چنگاریاں تھیں ،جو پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کے کسی جرم میں شریک نہ تھے،جوغیرجانبدارمبصرین اورصحافیوں کےمطابق انہی صبر آزما حالات میں مزید کئی ماہ مسلسل لڑنے کا عزم اور صلاحیت رکھتے تھے، جو وطن واپسی پر اپنی ریٹائرمنٹ سے آج تک اپنے وطن کا ہر راز اپنے سینے میں لیے رزق حلال کےجائزذرائع سےتلاش میں بڑھاپےکی دہلیزتک آگئے،جنہوں نےآج تک کسی سےگلہ کیا،نہ دکھ میں روئے،بلکہ اپنی اولادوں کی ایسی تربیت کی کہ آج ان کے ماتھے پر ندامت کا کوئی داغ نہیں
سلام اے فرزندان خاک
حوالدار حاجی محمد حنیف عباسی آف بڑاہوتر مری
نائیک محمد یوسف عباسی آف سنبل بیا مری
سپاہی محمد امین عباسی آف بڑاہوتر مری
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس زنداں کبھی رسوا سر بازار
گرجے ہیں بہت شیخ سر گوشہ منبر
کڑکے ہیں بہت اہل حکم برسر دربار
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوک دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرز ملامت
اس عشق نہ اس عشق پہ نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغ ندامت
The tragedy of East Pakistan and the Kohsar region. Salute to the heroes, سانحہ مشرقی پاکستان اورخطہ کوہسار۔۔۔سلام اے فرزندان خاک
