سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے معتمد ساتھی اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ ڈال رہے تھے اور انہوں نے پیشکش کی تھی کہ اگر انہیں توسیع مل جاتی ہے یا پھر فیلڈ مارشل کا عہدہ دے دیا جاتا ہے تو وہ پانامہ کیس ختم کرا دیں گے۔
اس بات کا انکشاف عرفان صدیقی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت ساری چیزیں آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آ رہی ہیں اور کچھ مزید آ جائیں گی۔

منشور کی تیاری کے لئے تیس ذیلی کمیٹیاں قائم کر دی گئیں: سینیٹر عرفان صدیقی
2014 کے دھرنے کے بعد پانمہ کیس کے پس منظر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے بے تاب تھے ،اس کے لیے انہوں نے نواز شریف پر دباؤ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہیں یہاں تک کہا گیا کہ اگر وہ انہیں یعنی راحیل شریف کو توسیع دے دیتے ہیں یا فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز کر دیتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ پانامہ کیس ختم کرنے میں ان کی مدد کریں گے۔
تاہم نواز عرفان صدیقی کے بقول نماز شریف نے یہ پیشکش مسترد کر دی بلکہ اس پر وہسخت برہم ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پانامہ کیس میں مجھے پھانسی بھی دے دی جاتی ہے تو میں ایسی کوئی پیشکش کسی دباؤ میں آ کر قبول نہیں کروں گا۔
Irfan Siddiqui made a big claim regarding Raheel Sharif,عرفان صدیقی نے راحیل شریف کے حوالے سے بڑا دعوی کر دیا
