پنجاب میں سیکڑوں اساتذہ کی گرفتاریوں کے خلاف اساتذہ سراپا احتجاج،صوبے میں دس ہزار اسکولوں کی تالہ بندی کا اعلان کر دیا۔
احتجاج کتے دوران لاہور-فیصل آباد سمیت کئی شہروں میں جھڑپیں ہوئیں ،بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی
تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم پنجاب کے اساتذہ سمیت نان ٹیچنگ سٹاف نےمطالبات کی حمایت میں لاہور کےسول سیکرٹریٹ چوک میں احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری رکھا۔شرکاء کا مطالبہ ہے کہ لیوانکیشمنٹ میں کی جانے والی کٹوتی کو ختم کیا جائے۔ملازمین کا ڈسپیرٹی الائونس بحال کیا جائے اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ دھرنے کے شرکاء نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
اس دوران پولیس نے سیکرٹریٹ کے باہر احتجاج کرنے والے 100 سے زائد اساتذہ و سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا ۔ان گرفتاریوں کے خلاف فیصل آباد کے اساتذہ بھی سڑکوں پر آگئے۔پولیس نے اساتذہ کو منتشر کرنے کیلئے دھاوا بولا، لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کی، جبکہ مظاہرین نے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا۔ایک پولیس اہلکار سر میں پتھر لگنے سے زخمی بھی ہوا پولیس نے ایک طالبعلم سمیت 10 سے زائد اساتذہ کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار اساتذہ لاک اپ میں
پولیس نے خواتین استذہ کے موبائل نہرمیں پھینک دیے
پولیس اہلکاروں نے فوٹیجز بنانے پر بعض خواتین اساتذہ کے موبائل نہرمیں پھینک دیے۔پولیس نے لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کرکے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ قبل ازیں پولیس نے رات گئے ملازمین کے دھرنے پر کریک ڈاؤن کیا تھا، اور سوئے ہوئے اساتذہ و ملازمین کو گرفتار کر کے لے گئی۔گرفتار افراد میں رحمان باجوہ، طارق کلیم، ملک امام دین اور زاہد شریف سمیت 40 اساتذہ شامل ہیں، گرفتار اساتذہ کو مختلف پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔
پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت نے کہا ہے کہ پُرامن ملازمین کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں۔ نگراں حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، پنجاب بھر میں اساتذہ تعلیمی بائیکاٹ اور تالہ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔رانا لیاقت کا کہنا ہے کہ گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے، لیو انکیشمنٹ کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، ملازمین مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سول سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاج کا لائحہ عمل اور حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔
ادھر حافظ آباد موٹر وے پر پولیس نے پرنسپل سمیت 100سے زائد طلبا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت شاہرا ت بند کرنے کی دفعات شامل ہیں۔ پولیس کی جانب سے پرنسپل کے گھر چھاپہ مارا گیا لیکن پرنسپل روپوش ہو گئے۔ راولپنڈی میں سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے مری روڈ پر ایجوکیشن آفس کے باہر احتجاج کیا۔ جس کے باعث بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ اساتذہ نے سرکاری اسکولوں کی نجکاری، لیو انکیشمنٹ اور پینشن ترامیم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرے میں خواتین ٹیچرز کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
Teachers protest Punjab, 10 thousand schools closed, اساتذہ سراپا احتجاج۔پنجاب میں دس ہزار اسکول بند

