مری میں تدریسی فرائض انجام دینے والے بیشتر غیر مقامی اساتذہ نے بھی اس سیاحتی ہل اسٹیشن کو پکنک پوائنٹ سمجھ لیا۔
موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی اکثر مردو خواتین ٹیچرز نے اپنا تبادلہ راولپنڈی کرالیا جبکہ بعض اڑان بھرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحصیل مری کے بیشتر سرکاری تعلیمی اداروں کے مایوس کن نتائج انہی معاملات سے منسلک ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحصیل مری میں تعینات ایسے میل اورفی میل ٹیچرز بھی ہیں جو گرمیوں کے ابتدائی مہینوں کے دوران مری سے راولپنڈی ٹرانسفر کراکر گرمائی چھٹیاں انجوائے کرتے ہیں اورپھر مری میں تبادلہ کررا کر یہاں کی موسم سرما کی چھٹیاں مناتے ہیں، یوں یہ ٹیچرز سال کے پانچ ماہ چھٹیوں میں ہی گزاردیتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اساتذہ مری کو بطور ٹورسٹ پوائنٹ انجوائے کرنے کیلئے گرمیوں میں یہاں تبدیلی کرالیتے ہیں اورسردیوں میں پھر راولپنڈی چلے جاتے ہیں اس عمل سے ہزاروں طلباء وطالبات کا مستقبل تاریک ہورہا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے امتحانات میں مایوس کن نتائج کے اصل محرکات یہی خرابیاں ہیں ۔ واضح رہے کہ میٹرک کے سالانہ امتحان میں گورنمنٹ ہائی سکول مسیاڑی کا نتیجہ صفر جبکہ جھیکا گلی اسکول سے صرف دو طالب علم کامیاب ہوئے تھے۔دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ سی اوایجوکیشن نے گذشتہ دنوں مری دورے کے دوران بلندوبانگ دعوے توکئے لیکن اس پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہے۔
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب،صوبائی سیکرٹری تعلیم اوردیگراعلیٰ حکام سے اس معاملے پر فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔
Murree became a picnic point for non local teachers,مری میں تعینات بیشتر غیر مقامی اساتذہ نے ہل سٹیشن کو پکنک پوائنٹ سمجھ لیا

