وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے چار سے ساڑھے چار سو سرکاری گاڑیاں ہیں نیلام کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ اب سرکار کے ٹیکسوں کے پیسوں سے کوئی عیاشی نہیں ہو گی ،بلا تفریق شفاف احتساب کو یقینی بنایا جائے گا ۔بجلی کے بل اب پرانے ٹیرف پر ہی آئیں گے کسی کو کوئی جرمانہ نہیں ہو گا ۔بیوروکریسی میں شفاف لوگوں کو اوپر لا رہے ہیں اس سے نظام میں بہتری آ ئے گی۔
پروٹوکول ختم کر دیا ہے اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہوں میری کابینہ میرے ساتھ ہے اور میری پالیسی کو فالو کرتی ہے ۔ مجھے مسائل کا ادراک ہے لیکن صدیوں کی خطاؤں کا ازالہ لمحوں میں ممکن نہیں ہے ۔وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور اور میرپور پروٹیکشن فورم کے ارکان سے خطاب کرتے ہوے کیا۔
۔انہوں نے کہا کہ منگلا ڈیم کا تحریری معاہدہ موجود ہے ،ہمیں آئسولیشن میں نہیں رہنا ، جائز مظالبات ہونگے پورے ہونگے،2003 میں جو معاہدہ ہوا اسمیں کابینہ کی منظوری شامل ہے ،بجلی کا ٹیرف ایک سال کیلیے 2.59 ہے اسکے پاس مسئلہ کمیٹی کے پاس جانا تھا جس کے سارے ممبر پاکستان سے تھے ۔انہوں نے کہا کہ یہ رولز آف بزنس پہلی دفعہ 1985 میں نافذ ہوئے ،برقیات کے ریکارڈ کے مطابق 1910 میں مہاراجہ کا بجلی ایکٹ تھا ،1959 میں وہ پھر نافذ ہوا ،تیریویں ترمیم تک ٹیرف کا اختیار کشمیر کونسل کے پاس تھا ،پھر یہ آزاد حکومت کو ملا ،2022 کے اس نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا جس میں ڈی جی کمرشل کو ٹیرف میں اضافے کا اختیار دیا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ ٹیرف کے معاملے پر گفت و شنید ہوئی ہے اور انہیں سارا معاملہ بتایا ہے جس کو انہوں نے مان لیا ،
اگلے ایک ماہ میں چار سو میٹر ریڈر بھرتی کر رہے ہیں واپڈا کے سٹینڈرڈ کے مطابق تا کہ بلنگ کا نظام ٹھیک ہو،وزیراعظم سیکرٹریٹ میں میٹر لگوایا اکتیس لاکھ کا بل آیا،بعد میں ٹھیک کروایا تو چار لاکھ بنا ،عام آدمی کا کیا بنے گا ،برقیات کے ملازمین سے بات کرونگا کہ محکمہ چلانا ہے یا بند کرنا ہے ،بجلی کے بل جو دے رہے ہیں ایکسٹریم دے رہے ہیں اور کوئی کچھ نہیں دے رہے ، انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی بنائیں ایڈمنسٹریشن آپ کے ساتھ لگاتا ہوں بڑے گھروں کے میٹر چیک کر لیں ،قانون ،قاعدہ اور کتاب کے مطابق آگے بڑھنا ہے ،پوسٹیں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت لگی ہیں،ہر آدمی کو احتساب سے گزرنا ہو گا عام آدمی کے بجلی کنکشن اس وقت تک نہیں کاٹنے دونگا جب تک اشرافیہ بل نہیں دے گی ۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں بائیو میٹرک نافذ کیا ہے،سسٹم کو ٹھیک کر رہے ہیں ،ریاست کا وزیراعظم اگر کام کر رہا ہے تو ٹیکس کے پیسے سے مراعات لینے والے ہر شخص کو کام کرنا ہو گا ،میں رہتا اپنے ڈیرے پر ہوں ،گرمیوں میں درختوں کے نیچے اے سی سے مجھے ویسے ہی نفرت ہے ،پروٹوکول کے خلاف ہوں تین دفعہ بھمبر گیا ہوں پرائیویٹ گاڑی میں گیا ہوں ۔انسان کا ضمیر زندہ ہونا چاہیے سب کو کہہ دیا ہے کہ میری پالیسیوں کو فالو کرنا ہو گا ،سوسائٹی والوں کو خود بھی زندگی ضمیری کا مظاہرہ کرنا ہو گا ،بند راستوں میں سے راستہ تلاش کرنا سیاسی دانشمندی ہے میں اپنے وزیروں کو کریڈٹ دونگا وہ میرے ساتھ ہیں ،سرکار کے ٹیکسوں کے پیسوں سے کوئی عیاشی نہیں ہو گی ،چار سے ساڑھے چار سو گاڑیاں ہیں جو نیلام کرنے جا رہے ہیں ۔
PM AJK announced to auction 450 vehicles،وزیر اعظم آزاد کشمیر کا ساڑھے چار سو گاڑیاں نیلام کرنے کا اعلان

