Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

یکے سفینۂ ایں خام را بہ طوفان دہ

024147b0 6b16 432e b263 f2e5b8691af0

فکر اقبال۔۔از قاضی محمد شعیب

 

مرا براہِ طلب بار در گل است ہنوز
کہ دل بہ قافلہ و رخت و منزل است ہنوز

راہ طلب میں ابھی تک میں علائق دنیا میں گرفتار ہوں
ابھی تک میرا دل قافلہ ، سامان اور منزل کے چکر میں ہے۔

کجا ست برق نگاہے کہ خانماں سوزد
مرا با معاملہ با کشت و حاصل است ہنوز

کہاں ہے وہ بجلی جیسی نگاہ جو میرا گھر بار جلا دے
ابھی تک میں کھیتی اور اس کی پیداوار کی فکر میں گرفتار ہوں۔

یکے سفینۂ ایں خام را بہ طوفان دہ
ز ترسِ موج نگاہم بساحل است ہنوز

مجھ خام کی کشتی کو ذرا طوفان میں ڈال دیجئیے
کہ موجوں کے ڈر سے میں ابھی ساحل کی جانب دیکھ رہا ہوں۔

تپیدن و نہ رسیدن چہ عالمے دارد
خوشا کسے کہ بہ دنبال محمل است ہنوز

تڑپنا اور مقصود تک نہ پہنچنا ، کیا لطف رکھتا ہے!
خوش نصیب ہے وہ شخص جو ابھی محمل کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

کسے کہ از دو جہاں خویش را بروں نشناخت
فریب خوردۂ ایں نقشِ باطل است ہنوز

جس شخص نے اپنے آپ کو دونوں جہانوں سے الگ نہیں پہچانا
وہ ابھی تک اس نقش باطل (دنیا) کا فریب خودرہ ہے۔

نگاہِ شوق تسلی بہ جلوۂ نہ شود
کجا برم خلشے را کہ در دل است ہنوز

ایک جلوے سے میری نگاہ شوق کی تسلی نہیں ہوئی
اس خلش کا کیا علاج جو ابھی تک میرے دل میں موجود ہے۔

حضورِ یار حکایت دراز تر گردید
چنانکہ ایں ہمہ نا گفتہ در دل است ہنوز

محبوب کے حضور بات بہت لمبی ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سی ان کہی باتیں دل میں رہ گئیں ہیں۔

زبورِ عجم


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481