ہم جب ایم سی سکول جھیکاگلی میں داخل ہوئے تو یہاں تین سو زائد طلبہ زیر تعلیم تھے۔
یہ مڈل سکول تھا آٹھ کمروں ایک کنٹین اور ایک دفتر پر مشتمل!
محترم سرفراز صاحب یہاں کے ہیڈ ماسٹر اور ہمارے انگریزی کے استاد تھے
میں یہاں پانچویں جماعت میں آیا، شائد 1991ء کا سال رہا ہوگا۔
جماعت اول کو محترم زرین عباسی صاحب پڑھاتے تھے ان کے تین بیٹے ہمارے کلاس فیلو تھے۔
دیگر اساتذہ میں شہناز صاحب ہل ڈھولو والے، سر ساجد صاحب مسیاڑی سے تھے ان کا تبلیغ کے ساتھ تعلق تھا سر پہ ہمیشہ سفید عمامہ سجائے رکھتے۔ آج بھی ہم سے زیادہ جوان ہیں ۔
پنجم میں ہمارے کلاس ٹیچر عابد صاحب کا تعلق بھی مسیاڑی کے ساتھ تھا، بہت نفیس انسان تھے کچھ برس قبل یہاں بہارہ کہو میں ملاقات ہوئی تو یوں لگا کہ میں پانچویں کلاس میں بیٹھا وہی سادہ اور خوفزدہ سا بچہ ہوں۔
قاری ارشد صاحب اسلامیات اور عربی کے استاد اور بذلہ سنج طبیعت کے حامل تھے ۔
ماسٹر ریاض صاحب ریاضی کے استاد تھے۔ شکیل صاحب بھی ریاضی اور سائنس وغیرہ پڑھاتے تھے، وہ واحد استاد تھے جو کچھ سخت طبیعت کے مالک تھے۔ بچے ان کے سکول سے چھٹی کرنےکی دعائیں کیا کرتے تھے۔
ان کا بیٹا عمران سکول آتا تو بچے بڑی امید سے اسے پوچھتے کہ آج شکیل صاحب آئیں گے یا نہیں مگر شکیل صاحب کی یہ سختی بھی ان کے اخلاص کا پرتو تھی۔
سکول میں غفار صاحب کنٹین اور کلاس فور کی ڈیوٹی سنبھالتے تھے۔ انکی کنٹین رنگ برنگے چورن اورمٹھائیوں سے لدی پھندی ہوتی۔
سکول کے تمام اساتذہ انتہائی محنتی اور مخلص تھے۔ کبھی ہیڈماسٹر صاحب ہمیں انگریزی پڑھاتے کسی دوسرے ٹیچر کے پیریڈ کے پانچ دس منٹ بھی کھا جاتے اور یوں اساتذہ کے درمیان اس معاملے پہ خوشگوار قسم کی جھڑپ ہو جاتی اور ہم تماشہ دیکھا کرتے۔
جھیکاگلی سکول کی شہرت رزلٹ کے معاملے میں تمام ایم سی سکولوں سے بہتر تھی۔
1992 کا ورلڈ کپ شروع ہوا تو چند لڑکے پاکٹ سائز ریڈیو ٹرانسسٹر ساتھ لے آتے اور چھپ کے پاکستان کے میچ پہ کمنٹری سنتے۔ اساتذہ کو سب معلوم ہوتا مگر کرکٹ کا بخار ایسا تھا کہ وہ بھی تجاہل عارفانہ سے کام لیتے۔
آدھے سے زائد سکول کے کلاس فیلو تنویر کے کہنے پہ ہم نے گرمیوں کی چھٹیوں کے لیئے ایک بار ناکام ہڑتال بھی کی اور اساتذہ سے خوب مار کھائی۔
۔
گرمیوں میں ایک آدھ ماہ کے لیئے ہمیں پڑھانے فوجی بھی آتے۔ یہ ایجوکیشن کور کے زیر تربیت افسران ہوتے جو اپرٹوپہ سکول آف آرمی ایجوکیشن سے تشریف لاتے۔
ان ہی میں سے ایک سر نور اور سر ابرار بھی تھے جن کی بچوں کے ساتھ شفقت اور شرافت آج تیس سال بعد بھی ہمیں یاد ہے۔
سکول کا سب سے لائق طالب علم غلام نبی تھا۔ محنتی، کمیٹڈ، مخلص اور شریف النفس
اس کی لکھی کہانی پھول کلیاں رسالے میں چھپی تو ہمارے لیئے یہ بڑی حیرانی اور اچنبھے کی بات تھی۔ غلام نبی گورنمنٹ ہائی سکول مری میں بھی بہترین طالب علم رہا مگر پھر شائد وقت اور حالات اس کی دسترس میں نہ رہ سکے ہوں اور وہ غم روزگار میں الجھ گیا۔
جھیکاگلی سکول کے کتنے ساتھی طالب علموں کی شبیہں ایک متحرک فلم کی طرح ذہن کے پردہ پہ نمایاں ہوتی چلی جاتی ہیں جو زمانے کی بھیڑ میں کہیں کھو گئے ہیں۔
یہ سکول ایک شاندار تعلیمی روایت کا امین اور بہت قابل و مخلص اساتذہ کی ریاضتوں کا ثمر ہے۔ ایسے اساتذہ جن کی کمٹمنٹ تنخواہ کی رقم یا نوکری کے ماہ و سال سے ماورا تھی۔
آج ایک بی اے ایل ایل بی اٹھ کے کہتا ہے کہ یہ 2 کمروں کا معمولی سا سکول ہے۔
یہ دو کمروں کا سکول نہیں چار نسلوں کے سینوں میں موجزن تعلیم و تربیت کا اجلا، پاکیزہ اور شفاف دریا ہے مگر 139 والوں کے لیئے یہ معاملہ سمجھنا ذرا مشکل ہے۔
Memories of MC School Jhika Gali ,ایم سی سکول جھیکا گلی کی یادیں




