یہ زیادہ پرانی بات بھی نہیں ہے، شہر کی مصروف ترین زندگی سے دور یہ مکان یا مقامی زبان میں "کوٹھے” دیہاتی زندگی کی جنت ہوا کرتے تھے ۔۔۔
عموماً یہ مکان تین بائے ہوا کرتے تھے سب پہلا بایا "پاسار” کے نام سے جانا جاتا تھا یہ پاسار یا برآمدہ مہمان ناٹھی اور گھر کے معزز افراد کی رہائش گاہ ہوا کرتی تھی۔ اس میں آراستہ لکڑی کی چارپائیوں پر چادریں اور تکئے ہر وقت موجود رہتے تھے ۔ دوپہر کے وقت ان پر آرام بھی کیا جاتا تھا۔ اسی پاسار میں ایک سائیڈ پر لکڑی کا بنا ایک بڑا صندوق بھی رکھا نظر آتا تھا جس میں گھر کے بسترے اور کپڑے وغیرہ مشکور ڈال کر رکھے جاتے تھے ۔
کوٹھے کا درمیانی حصہ بطور کچن اور عام افراد کے لیے استعمال ہوتا تھا جس میں نپاسار کی نسبت کم قیمت اور پرانے بسترے اور چارپائیاں ہوتی تھیں۔ ایک انگیٹھی جس کے چولہے میں ہمہ وقت اور سردیوں میں تو نان سٹاپ آگ جلتی رہتی تھی۔ اس چولہے کے آس پاس گھر کی خواتین کے بیٹھنے کی گدیاں یا پیڑھی چھوٹے بچوں کے لئے بنڈے اور بزرگ افراد کے لئے پیڑھے ہوا کرتے تھے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان پیڑھوں پر کسی چھوٹے کو بیٹھنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوتی تھی۔
کوٹھے کا آخری حصہ بطور "کہوال” استعمال ہوتا تھا جس میں مویشیوں کو باندھا جاتا تھا ۔ اس کہوال کا رولا ہی رہتا تھا ۔ اس گوال کے "گوتریڑ” بھرنے کے لئے باہر سے مٹی لانی پڑتی تھی۔ علاوہ ازیں کہوال کا ٹمپریچر خاص کر سیالے (موسم سرما ) میں برقرار رکھنے کے لیے اکثر آگ وغیرہ بھی جلائی جاتی تھی۔
سردیوں میں یا برسات کے موسم میں اکثر "اوتھروں” بھی تنگ کرتا تھا جس کی بروقت روک تھام بذریعہ دبنہ وغیرہ کی جاتی تھی تاہم اگر ایمرجنسی میں اوتھروں ہلگنا شروع ہو جائے تو چھت کے نیچے متاثرہ مقام پر کوئی پرانا برتن رکھ دیا جاتا تھا جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا رہتا رتھا۔
عید شب رات پر مکان کی لپائی یا لمبائی مٹی کے ذریعے کی جاتی تھی اس لپائی کے سوکھنے پر گولا مارا جاتا تھا ۔
کوٹھے کی اندرونی کندوں(دیواروں) پر مختلف رنگوں سے جس میں سیاہی اور چاول پیسٹ کر کے رنگ سے پھلکاری کی جاتی تھی اکثر عورتیں ہاتھ
کی تین انگلیوں سے چوکے لگایا کرتی تھیں جن کی داد تحسین ان کو عید کے دن آنے والی خواتین دیا کرتی تھیں ۔
مکان کی کڑیوں پرجھنڈیاں لگائی جاتی تھیں ۔ شیلفوں میں اخبار بڑی نفاست سے کاٹ کر لگائے جاتے تھے ۔ ان کے ڈیزائنوں کا بھی مقابلہ ہوا کرتا تھا اور گاؤں کی اکثر سیانی لڑکیاں اپنے کاٹے ہوئے اخبار چھپا کر رکھتی تھیں آور چاند
نظر آنے کے بعد لگاتی تھیں تاکہ کاپی پیسٹ کا خطرہ کم سے کم رہے یعنی کوئی اور نقل کر کے ویسی ہی آرائش نہ کر سکے۔
پورے کوٹھے کی تزئین و آرائش مرد کی جیب پر کم سے کم اثر انداز ہوتی تھی، صرف چند ایک چیزیں ہی بازار سے خریدی جاتی تھیں وہ بھی محض بیس تیس روپے کی۔
گھر کی تزئین و آرائش کے بھی نمبر ہوا کرتے تھے جو عورتیں خفیہ ذرائع سے یا طعنوں طنزوں کی شکل میں ٹرانسفر کر دیا کرتی تھیں جس کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوا کرتے تھے ۔
بارش کی آواز مکان کے اندر نہیں جاتی تھی مکان کی بلیوں میں مختلف قسم کی چڑیوں کے بسیرے ہوا کرتے تھے۔
مختصر یہ کہ مکان نہیں جنت کا گماں ہوتا تھا۔ پڑوسی سرشام ایک ترتیب کیساتھ روزانہ کی بنیاد پر کسی ایک گھر میں جمع ہوجایا کرتے تھے اور خوب گپ شپ ہوتی۔
بشکریہ صدائے سرکل بکوٹ



