یکم ستمبر2023بعدنمازجمعہ گورنمنٹ ہائی سکول پھپھڑیل مری میں یونین کونسل مسیاڑی کے چار دیہات سائن، گوہڑا، پھپھڑیل اور سنبل بیاہ کو 2012 یعنی گزشتہ 11 برس سے قدرتی گیس فراہم نہ کرنے اور منتخب سیاسی قیادت کی طرف سے عوام کو مسلسل لولی پاپ دینے کے خلاف مذکورہ دیہات کےنمائندہ افرادکاپہلا جرگہ منعقدہوا۔
اس عظیم الشان جرگے میں عوام اورمقررین نےاپنےحقوق کی سلبی اورقدرتی گیس کی عدم فراہمی پر سیاسی جماعتوں کی قیادت کو الٹی میٹم دیتےہوئے عزم کیاکہ آئندہ انتخابات سے قبل اگر گیس کا منصوبہ مکمل نہ ہوا تو امیدواروں کو ناخوشگوار صورت حال کا سامنا کرنا ہوگا جس میں انتخابات کے بائیکاٹ اور راست اقدام سمیت دیگر تمام امکانات بروئے کار لائے جائیں گے۔
مقامی لوگوں کے مطابق اس حوالے سے دلچسپ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ تحصیل مری کے جن 8 دیہات میں سے قدرتی گیس کی مین پائپ لائن گزاری گئی ان میں یونین کونسل انگوری کے 3 دیہات مہنگل چکہ اور انگوری کے علاوہ یونین کونسل مسیاڑی کے 5 دیہات بھی شامل تھے جن میں سے موضع ارواڑی کے سوا دیگر تمام 7 دیہات ابھی تک قدرتی گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔
ان دیہات کے عوام کی ملکیتی زمینیں، رہائشی گھر، باغات، راستے ،چشمے اور برساتی نالے سبھی متاثر ہوئے جس کی نہ مناسب ادائیگی کی گئی اور نہ پی سی ون میں وعدہ کےمطابق انہیں ترجیحی طور پر گیس فراہم کی گئی۔اس کے برعکس تحصیل مری کے دور دراز علاقوں کو امتیازی اور ترجیحی طور پر نوازا گیا جو مری کی اختتامی حدود اور کے پی کی سرحد سے ملتے ہیں۔اس حوالے سے گزشتہ ادوار کے منتخب حکومتی نمائندگان کےپاس کوئی ثبوت نہیں اورجودلائل دیے جاتےہیں وہ غیرمعتبر اورطفل تسلیوں کےسواکچھ نہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران علاقہ کے بعض سرکردہ افراد نے عدالت سے بھی رجوع کیالیکن واضح عدالتی احکامات اورہدایات کےباوجود محکمے اور حکومت کی طرف سے کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔

یہ امر بھی اہم ہےکہSNGPL یعنی سوئی ناردرن گیس کمپنی کے پاس اس منصوبے کے فنڈز 2012 سے موجود ہیں جن کے باعث تین باریعنی 2012، 2020 اور 2022 میں اس کا سروے ہوا اور”ڈھکی”سائن سے سنبل بیاہ تک 4 یا 6 انچ کی پائپ لائن بچھائے جانےکےوعدےہوئے لیکن ہر بار مختلف سیاسی اور حکومتی نمائندوں کےوعدے اور طرز عمل ایک سا اور مایوس کن رہا۔اب جبکہ مری کی یونین کونسل چارہان، پوٹھہ ،روات اور دیول میں فنڈز کی منظوری اور ٹینڈرز کے بعد گیس پائپ بچھانے کا کام شروع ہوچکاہے،اہلیان دیہہ نےاپنےحقوق مسلسل غصب کیےجانےکے خلاف ہرطرح کےردعمل اورہرپلیٹ فارم پرجدوجہدکافیصلہ کیا۔
جرگےکےمیزبان بابرشہزادعباسی اور پروفیسرمحمداشفاق عباسی تھے جبکہ مقررین میں مستفیض احمد عباسی، بابو محمد منظورعباسی، محمدمصطفےعباسی، خرم شہزادعباسی، کونسلرمحمدشبیرعباسی ،کونسلرچن ذیب عباسی، ساجد محمودعباسی، حاجی محمدشفیق عباسی ،شوکت محمود عباسی، اعجاز احمد عباسی ،حافظ ساجدمحمود عباسی اور دیگر نے خطاب کیا۔
عوام کی تجویزپرچاروں مواضعات کےمنتخب افرادپر مشتمل ایک نمائندہ کمیٹی تشکیل دی گئی جو دستیاب ریکارڈ عدالتی احکامات اور اب تک کی مبینہ پیش رفت کا جائزہ لے کر محکمانہ عمل درآمد عدالتی چارہ جوئی اور مسلسل عوامی دباؤکے ذریعے اپنے مقاصد اور اہداف کے حصول تک مصروف عمل رہے گی۔جرگے کے اختتام پر حبیب الرحمن عباسی نے استقامت اور کامیابی کےلیے دعا کرائی۔


