بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کے لیے ٹائم فریم مانگ لیا۔
اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس انڈیا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور بھارت سے انضمام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیئے۔
واضح رہے کہ مودی سرکار نے آرٹیکل 370 کو معطل کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے وفاق کی اکائی تسلیم کیا تھا جس سے ملک کے باقی حصوں کے لوگوں کو یہاں جائیداد خریدنے اور مستقل طور پر آباد ہونے کا حق مل گیا۔اس طرح مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی آبادی بڑھانے اور مقبوضہ خطے کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔اس سیاہ قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جنھیں اب ایک ساتھ سنا جا رہا ہے۔
بینچ نے حکومتی وکلا کو ہدایت کی کہ حکومت سے پوچھ کر بتائیں ان کے پاس مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا کوئی لائحہ عمل یا ٹائم فریم ہے۔ججز نے دوران سماعت اپنے ریمارکس میں کہا کہ مودی حکومت کو عدالت کے روبرو بیان دینا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کو مستقل طور پر یونین ٹیریٹری نہیں بنایا جائے گا۔ یہ اقدام عارضی بنیاد پر محدود مدت کے لیے ہے۔
جسٹس چندرچوڑ نے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹ کو قومی سلامتی کی ضروریات کے پیش نظر محدود مدت کے لیے کسی ریاست کو وفاق کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ؟ اس موقع پر حکومتی وکیل نے چندی گڑھ کی مثال بھی دی کہ چندی گڑھ پنجاب سے علیحدہ ہوکر ایک اکائی کی حیثیت سے وفاق کے زیر انتظام آیا اور اب یہ ایک ترقی یافتہ شہر بن چکا ہے۔

