مانسہرہ میں خاتون کو قتل کرکے خود کشی کا رنگ دینےکی کوشش ناکام ہو گئی۔نگہت اور خرم کی شادی 4 سال پہلے ہوئی، اولاد نہ ہونے پر جھگڑا رہتا تھا۔شوہر اور ساس نے قتل کیا۔والد کی شکایت پر ملزم گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق محمد فرید ولدشکردین سکنہ بھیرکنڈ نے سٹی پولیس کورپورٹ درج کرائی کہ اس کی بیٹی 26 سالہ نگہت بی بی کی شادی چار سال قبل خرم ولد اسحاق سکنہ بٹ دریاں کے ساتھ ہوئی۔ اس دوران ان کی اولاد نہ ہو سکی۔ میری بیٹی کے ساتھ اس کا شوہر اور ساس آمنہ بی بی لڑائی جھگڑا کرتے رہتے تھے، گزشتہ روز مجھے شبیر نے فون پر اطلاع دی کہ نگہت نے رات سے خود کوکمرے میں بند کر رکھا ہے اور دروازہ نہیں کھول رہی، جس پرمیں بیٹی کے گھر گیا اور کمرے کا دروازہ دھکا دے کر کھولا جہاں پنکھے کے ساتھ نگہت کی پھندا لگی نعش لٹک رہی تھی۔
فرید کے مطابق ایک چھوٹے سے کپڑے کے ساتھ اس کی بیٹی کو خود قتل کر کے پنکھے کے ساتھ باندھا گیا تھا جبکہ کمرے میں کوئی ایسی ٹیبل کرسی بھی نہیں تھی جس سے پتہ چلتا کہ وہ اس پر چڑھ کر پھانسی لگی ہے۔ میری بیٹی کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے جس سے واضح تھا کہ اسے تشدد کر کے مارا گیا ہے ۔
پولیس نے مقتولہ کے والد مدعی فرید کی رپورٹ پر نگہت کی ساس آمنہ بی بی اور شوہر خرم کے خلاف مقدمہ درج کر کے خرم کو گرفتار کرلیا جبکہ اس کی والدہ آمنہ بی بی نے عدالت سے ضمانت کرا لی ، مقتولہ کے والد نے ایس پی انویسٹی گیشن اور اعلی افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو میرٹ پر تفتیش کر کے انصاف دلوایا جائے۔
