روسی تاریخ کے طاقتور ترین صدر ولادیمیر پیوٹن سے بغاوت کرنے اور یوکریں کا ساتھ دینے والی نجی ملیشیا ویگنر گروپ کا سربراہ یوگینی پریگوزن مبینہ طیارہ حادثے میں دس ساتھیوں سمیت مارا گیا۔
ویگنر گروپ نے دعویٰ کیا ہےکہ جیٹ طیارے کو زمین سے نشانہ بنایا گیا ہے۔روسی حکام کے مطابق طیارہ ماسکو سے سینٹ پیٹرزبرگ جارہا تھا اور ماسکو کے قریب ہی حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔
روسی حکام نے تصدیق کی ہےکہ نجی طیارے میں ویگنر گروپ کے سربراہ یوگینی پریگوزن بھی سوار تھے۔برطانوی میڈیا کے مطابق طیارے میں عملےکے3 افراد اور 7 مسافر سوار تھے اور حادثے میں کسی کے بچنے کی کوئی اطلاع نہیں۔ ویگنر گروپ کے ٹیلی گرام چینل پر ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ طیارے کو زمین سے نشانہ بنایا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر حادثے کے شکار جہاز کو زمین پرگرتے اور آگ لگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ صدر پیوٹن کا باغی ایک زمانے میں ان کے انتہائی قابل اعتماد افراد میں شمار ہوتا تھا اور وہ پیوٹن کا ذاتی شیف بھی رہا ہے۔ عالمی سطح پر ویگنر گروپ اور اس کے سربراہ یوگینی پریگوزن کا نام اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے روسی فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا تھا۔یوکرین میں روس کے لیے عسکری کامیابیاں سمیٹنے والے ویگنر گروپ نے یوکرینی علاقوں میں موجود اپنے فوجیوں کو ماسکو روانہ ہونے کی ہدایت کردی تھی تاکہ وہ روسی وزیر دفاع کو منصب سے ہٹاسکیں۔
62 سالہ یوگینی پریگوزن نے روسی وزارت دفاع کو برائی قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ روسی وزیر دفاع نے اپنے ہی فوجیوں کو مارنے کا منصوبہ بنایا تھا،اور یہ کہ مبینہ میزائل حملے میں ویگنر فوجیوں کی ہلاکت میں روسی وزارت دفاع کا ہاتھ ہے۔بعد ازاں بیلاروسی صدر کی مداخلت پر معاملات حل ہوجانے کے بعد ویگنر چیف نے اپنے دستے واپس بلاکر یوکرینی محاذوں پر دوبارہ تعینات کردیے تھے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یوگینی پریگوزن کو اپنی بغاوت کے بعد زہر دیا جا سکتا ہے لہٰذا اسے محتاط رہنا چاہیے،تاہم یہ اندازہ کسی کو نہیں تھا کہ پیوتن کا باغی جلد ہی مبینہ فضائی حادثے میں مارا جائے گا۔


