اسلامی نظریاتی کونسل نے سانحہ جڑانوالہ میں ملوث ملزمان کو عبرتناک سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے اور اس حوالے سے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جو دن رات سماعت کر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کام انجام دے سکیں۔
جمعرات کو اپنے جاری کردہ بیان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے جڑانوالہ سانحے کے منصوبہ سازوں اور مساجد سے اعلانات کرنے والے عناصر کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا اسلام تمام مذاہب کی عبادت گاہوں اور مذہبی شعائر کے احترام کا درس دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے جو کچھ جڑانوالہ میں ہوا اس کی کوئی گنجائش نہ تو مذہب میں موجود ہے اور نہ رائج ملکی قوانین اور ہماری معاشرتی اقتدار اس کی اجازت دیتی ہیں۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ شرپسندی اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کو فوری طور پر حرکت میں آنا چاہیے اور ان واقعات میں ملوث تمام سرپسندوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ شرپسند عناصر کے ہاتھوں جن گھروں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچا حکومت فوری طور پر ان کی بحلی کے لیے ضروری اقدامات کرے اور عوام کی نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جو دن رات سماعت کر کے فیصلے کریں۔
مفتی منیب نے جڑانوالہ سانحے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
نامور عالم دین مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ جڑانوالہ سانحے کی جامع تحقیقات کرکے ذمے داروں کو قرارِ واقعی سزا دی جائے، میڈیا یک طرفہ موقف پیش نہ کرے ،بلکہ جہاں ہم مسیحیوں کے گرجاگھروں اور مکانات کو نقصان پہنچانے کی غیر مشروط طور پرمذمت کرتے ہیں، وہاں ہمارا یہ بھی مطالبہ ہےکہ اس سانحے کے اسباب کو بھی سامنے لایا جائے کہ قرآنِ کریم اور ناموسِ رسالت مآب ﷺ کی بے حرمتی کس نے کی اور کس کے ایماء پر کی اور آیا اس کے پیچھے کوئی طے شدہ منصوبہ اورسازش کارفرما تھی۔
انہوں نے کہا کہ مسیحیوں سمیت تمام غیر مسلم پاکستانی ہیں اور دستورِ پاکستان میں اُن کی جان ومال ،آبرو اور عبادت گاہوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔نیز یہ بھی معلوم کیا جائے کہ آیا اس میں انتظامیہ کی غفلت کارفرما ہے۔
ذمے داری کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھی بے حرمتی کاکوئی واقعہ پیش آئے ، انتظامیہ فوری طور پر اس میں ملوّث افراد کے خلاف کارروائی کرے اور انھیں قانون کی گرفت میں لے تو لوگوں کے اشتعال میں آنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی ۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک موجود پاکستان کے مخالفین کو ہمارے وطنِ عزیزاور دینِ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پس لازم ہے کہ وہاں موجود انتظامیہ کے افراد کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لایا جائے، یقینا یہ ایسے لوگوں کی کارستانی ہے جو ملک میں امن وامان نہیں چاہتے، بلکہ ملک کو انتشار سے دوچار کرنا چاہتے ہیںاور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ لمحۂ موجود میں اس کا فائدہ کسے حاصل ہوگا۔

