مری ایکسپریس وے پر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن جمعرات کو تیسرے روز بھی جاری رہا .
متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ این ایچ اے کے افسران و اہلکار عمارتوں کی مقرر کردہ حدود کی پیمائش میں رد وبدل کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں قانونی تعمیرات بھی غیر قانونی قرار پا رہی ہیں۔متاثرین کا کہنا تھا کہ بعض بااثر شخصیات کی عمارتوں کو 66 فٹ کی حدود میں آنے کے باوجود ان کیخلاف آپریشن نہیں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق غیرقانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشن ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ضلع مری کیپٹن ریٹائرڈ قاسم اعجاز کی نگرانی میں تین روز سے جاری ہے۔
آپریشن کے دوران مری ایکسپریس وے کے مختلف مقامات پر ہیوی مشینری کے ذریعے متعدد عمارتیں مسمار کی گئیں جبکہ بعض ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور فلیٹس وغیرہ کے جزوی حصوں کو گرایا گیا۔ اس موقع پر کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے راولپنڈی سے پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی تھی اور ہیوی مشینری سمیت ڈیمالشنگ سٹاف اور پولیس سمیت دیگر اداروں نے حصہ لیا۔
مسیاڑی میں آپریشن کے حوالے سے متاثرین کا الزام
اے ڈی سی آر مری قاسم اعجاز کا کہناتھا کہنا تھا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رہے گا کیونکہ متعدد بار نوٹس اور مقدمات درج ہونے کے باوجود تعمیرات کی گئیں تاہم تیسرے روز ہونے والے آپریشن کے متاثرین اور عوامی حلقوں نے مسیاڑی کے علاقے میں ہونے والے آپریشن کو این ایچ اے کی جانب سے امتیازی آپریشن قرار دیا گیا۔
متاثرین کا کہنا تھا کہ پیمائش کے دوران این ایچ اے کے افسران و اہلکار مخصوص عمارتوں کی نشاندہی کرتے رہے اور کئی ایسی عمارتیں بھی گرا دی گئیں جوآپریشن کی حدود میں بھی نہیں آتی تھیں ۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ اپریشن کے دوران پیمائش کرنے والے این ایچ اے کے افسران و اہلکار بار بار موبائل فون پر ہدایات بھی وصول کرتے رہے۔

