گذشتہ روز این ایچ اے کی جانب سے لوئر ٹوپہ ڈنہ پر آپریشن کر کے مختلف تعمیرات کو گرایا گیا۔ جہاں قانونی پیچیدگیوں اور کمزوریوں نے اس آپریشن کو ممکن بنایا وہاں بہت سے سوالات اور چہ میگوئیوں نے ایک کھچڑی پکا دی ہے۔ میں چونکہ خود ڈنہ میں تین سال روزانہ کی بنیاد پہ جاتا رہا لہذا بہت چیزوں کو قریب سے دیکھا ہے۔
ڈنہ پر اس سے قبل مبینہ طور پہ 66 فٹ کی حدود میں تعمیرات کی اجازت تھی۔ آج گرائی جانے والی گلوریا جینز کافی شاپ کی عمارت یہاں سب سے پہلے آنے والا برانڈ تھا اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ڈنہ کو شناخت اگر ملی تو اس کافی شاپ سے ملی۔ اب سچ مجبوراً پورا لکھنا پڑے گا۔ گلوریا جینز کا مالک جو وہاں کرائے پہ جگہ لے کے کاروبار کر رہا تھا ، اصولی طور پر اس جگہ کی پگڑی یا گڈ ول کا جائز حقدار ہے اور باہر سے آکر اپنی جمع پونجی لگا کر ایک کاروبار بنایا بلکہ ڈنہ کو ایک مقام بھی دلایا اور باقی برانذز کو بھی حوصلہ ملا لہذا یہ ایک نیا بزنس پوائنٹ بن گیا۔
اب ڈنہ ایک مضبوط کاروباری مقام بن چکا تھا اور ڈنہ پہ پہلا حملہ صداقت عباسی صاحب کے دور میں مال روڈ ۲ کے نام پر کیا گیا۔ پبلک پرائویٹ پارٹنر شپ کے نام پر مقامی لوگوں کی زمیں کو ہتھیا کر زلفی بخاری اور مقامی آلہ کاروں کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن مقامی لوگوں کی مزاحمت کے نتیجے میں اور حقائق کھل جانے کے باعث یہ پراجیکٹ رول بیک کر دیا گیا۔
بہت سے بڑے بڑے سیاست دان اس جگہ پہ مقامی لوگوں سے اونے پونے زمیں خرید کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے کاروباری مفادات کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے چند لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔ شنید ہے کہ اچانک سے این ایچ اے نے اپنے بائی لاز تبدیل کر دیے اور چھیاسٹھ کے بجائے 98 فٹ تک "رائٹ آف وے” رکھ دیا گیا۔اب جس غریب کی کل زمیں چار یا پانچ مرلے تھی وہ ساری کی ساری ایوارڈ میں آ جائے گی اور جن سیاسی لوگوں نے اس سے پیچھے زمینیں خریدی تھیں ان کی زمیں فرنٹ پہ آ کے اربوں روپے کی ہو جائے گی۔
دوسری جانب این ایچ اے مقامی لوگوں کو راہداری کا حق دینے سے انکاری ہے حالانکہ یہ ڈوؤل کیرج وے ہے نہ کہ موٹروے۔ ٹی ایم اے کے ملازمین رشوتیں لے کے لینٹر دلواتے رہے اور مقامی لوگوں کو بھی کرپشن کا طریقہ ہی سمجھ آیا اور بعد میں پیش آنے والے مسائل کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ اب بلڈنگز تو بنا دی گئیں، حکومتیں تبدیل ہونے پر سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے پہ وار کرنا شروع کر دیئے اور اصل کاروباری آدمی مفت میں مارا گیا۔
کسی بھی جگہ کی ترقی وہاں کی مقامی آبادی کی ترقی سے مشروط ہوتی ہے۔ یہاں عالم یہ ہے کہ مقامی غریب اور زمیںنوں کا مالک آج بھی مجبوری میں اپنی زمینیں اونے پونے دے دیتا ہے اور فائدہ بڑا بزنس میں اٹھاتا ہے۔ ڈنہ بہرحال ایک اچھا کاروباری مقام بن چکا تھا اور ہزاروں لوگوں کا کاروبار اس مقام سے وابستہ ہے۔ بڑے بڑے افسران کی نظر اس مقام پر ہے اور سیاسی اشرافیہ اور افسر شاہی کے لوگ کسی طرح اس سونے کی چڑیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ آۓ روز آپریشن اور اس طرح کے معاملات کیے جا رہے ہیں تا کہ مقامی کاروباری کا کاروبار بند کیا جائے اور بڑے مگر مچھ اپنا حصہ وصول کرسکیں۔ پچھلے چار سال اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے اپنا کام جاری رکھا اور قانونی طور پر سیکشن فور لگا کے اضافی زمینیں ایکوائر کی گئیں جبکہ اس کی ہر گز کوئی ضرورت نہ تھی۔
مقامی لوگوں کے معیشت اور روزگار پر شب خون مار کے انہیں قانون کی مار ماری جا رہی ہے اور مقامی لوگوں کے مفادات اور حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
مسئلے کا حل یہ ہے کہ اس معاملے پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، جو ان تمام مقامی اور بیرونی عناصر کو، جنھوں نے چھوٹے کاروباری کو باہر نکالنے کے لیے اثرو رسوخ استعمال کیا انہیں کٹہرے میں لائے۔ راہداری کا حق مقامی لوگوں کی دیا جائے تاکہ وہ کاروبار کر سکیں اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ کن لوگوں نے بلڈنگ بائی لاز کو پامال کر کے یا قبضے کر کے بلڈنگز بنائی ہیں۔ اس کے بعد تمام تر کمرشل مقامات کی دوبارہ نشاندہی کی جائے۔ کھوکھا مالکان اور چھوٹے کاروبار والوں کو ریگولرائز کیا جائے اور تجاوزات کا خاتمہ کر کے خوبصورت انداز سے بلڈنگز کے فرنٹ مزین کیے جائیں۔
سیاست چمکانے والوں سے گزارش ہے کہ میرٹ پر کام کر کے چھوٹے بزنس میں کو تحفظ دیا جائے تا کہ یہ مسائل بار بار پیدا نہ ہوں۔



