Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری تجاوزات آپریشن۔۔ کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟

9bdd789e 8000 463d 90ba c57fa1de734e

FB IMG 1674875625696 1 572x430 1نعمان عباسی۔۔۔ صاحب تحریر

گذشتہ روز این ایچ اے کی جانب سے لوئر ٹوپہ ڈنہ پر آپریشن کر کے مختلف تعمیرات کو گرایا گیا۔ جہاں قانونی پیچیدگیوں اور کمزوریوں نے اس آپریشن کو ممکن بنایا وہاں بہت سے سوالات اور چہ میگوئیوں نے ایک کھچڑی پکا دی ہے۔ میں چونکہ خود ڈنہ میں تین سال روزانہ کی بنیاد پہ جاتا رہا لہذا بہت چیزوں کو قریب سے دیکھا ہے۔
ڈنہ پر اس سے قبل مبینہ طور پہ 66 فٹ کی حدود میں تعمیرات کی اجازت تھی۔ آج گرائی جانے والی گلوریا جینز کافی شاپ کی عمارت یہاں سب سے پہلے آنے والا برانڈ تھا اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ڈنہ کو شناخت اگر ملی تو اس کافی شاپ سے ملی۔ اب سچ مجبوراً پورا لکھنا پڑے گا۔ گلوریا جینز کا مالک جو وہاں کرائے پہ جگہ لے کے کاروبار کر رہا تھا ، اصولی طور پر اس جگہ کی پگڑی یا گڈ ول کا جائز حقدار ہے اور باہر سے آکر اپنی جمع پونجی لگا کر ایک کاروبار بنایا بلکہ ڈنہ کو ایک مقام بھی دلایا اور باقی برانذز کو بھی حوصلہ ملا لہذا یہ ایک نیا بزنس پوائنٹ بن گیا۔

اب ڈنہ ایک مضبوط کاروباری مقام بن چکا تھا اور ڈنہ پہ پہلا حملہ صداقت عباسی صاحب کے دور میں مال روڈ ۲ کے نام پر کیا گیا۔ پبلک پرائویٹ پارٹنر شپ کے نام پر مقامی لوگوں کی زمیں کو ہتھیا کر زلفی بخاری اور مقامی آلہ کاروں کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن مقامی لوگوں کی مزاحمت کے نتیجے میں اور حقائق کھل جانے کے باعث یہ پراجیکٹ رول بیک کر دیا گیا۔

a5e5acae 87c3 4b12 a065 5e928ae2bf31مری ایکسپریس وے کا ایک منظر

بہت سے بڑے بڑے سیاست دان اس جگہ پہ مقامی لوگوں سے اونے پونے زمیں خرید کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے کاروباری مفادات کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے چند لوگ بھی اس میں شامل ہیں۔ شنید ہے کہ اچانک سے این ایچ اے نے اپنے بائی لاز تبدیل کر دیے اور چھیاسٹھ کے بجائے 98 فٹ تک "رائٹ آف وے” رکھ دیا گیا۔اب جس غریب کی کل زمیں چار یا پانچ مرلے تھی وہ ساری کی ساری ایوارڈ میں آ جائے گی اور جن سیاسی لوگوں نے اس سے پیچھے زمینیں خریدی تھیں ان کی زمیں فرنٹ پہ آ کے اربوں روپے کی ہو جائے گی۔

دوسری جانب این ایچ اے مقامی لوگوں کو راہداری کا حق دینے سے انکاری ہے حالانکہ یہ ڈوؤل کیرج وے ہے نہ کہ موٹروے۔ ٹی ایم اے کے ملازمین رشوتیں لے کے لینٹر دلواتے رہے اور مقامی لوگوں کو بھی کرپشن کا طریقہ ہی سمجھ آیا اور بعد میں پیش آنے والے مسائل کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ اب بلڈنگز تو بنا دی گئیں، حکومتیں تبدیل ہونے پر سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے پہ وار کرنا شروع کر دیئے اور اصل کاروباری آدمی مفت میں مارا گیا۔

کسی بھی جگہ کی ترقی وہاں کی مقامی آبادی کی ترقی سے مشروط ہوتی ہے۔ یہاں عالم یہ ہے کہ مقامی غریب اور زمیںنوں کا مالک آج بھی مجبوری میں اپنی زمینیں اونے پونے دے دیتا ہے اور فائدہ بڑا بزنس میں اٹھاتا ہے۔ ڈنہ بہرحال ایک اچھا کاروباری مقام بن چکا تھا اور ہزاروں لوگوں کا کاروبار اس مقام سے وابستہ ہے۔ بڑے بڑے افسران کی نظر اس مقام پر ہے اور سیاسی اشرافیہ اور افسر شاہی کے لوگ کسی طرح اس سونے کی چڑیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ آۓ روز آپریشن اور اس طرح کے معاملات کیے جا رہے ہیں تا کہ مقامی کاروباری کا کاروبار بند کیا جائے اور بڑے مگر مچھ اپنا حصہ وصول کرسکیں۔ پچھلے چار سال اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے اپنا کام جاری رکھا اور قانونی طور پر سیکشن فور لگا کے اضافی زمینیں ایکوائر کی گئیں جبکہ اس کی ہر گز کوئی ضرورت نہ تھی۔

مقامی لوگوں کے معیشت اور روزگار پر شب خون مار کے انہیں قانون کی مار ماری جا رہی ہے اور مقامی لوگوں کے مفادات اور حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

687750b1 faa6 4ae8 8fbb acef35724babآپریش کے دوران عمارتیں مسمار کی جا رہی ہیں

مسئلے کا حل یہ ہے کہ اس معاملے پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، جو ان  تمام مقامی اور بیرونی عناصر کو، جنھوں نے چھوٹے کاروباری کو باہر نکالنے کے لیے اثرو رسوخ  استعمال کیا انہیں کٹہرے میں لائے۔ راہداری کا حق مقامی لوگوں کی دیا جائے تاکہ وہ کاروبار کر سکیں اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ کن لوگوں نے بلڈنگ بائی لاز کو پامال کر کے یا قبضے کر کے بلڈنگز بنائی ہیں۔ اس کے بعد تمام تر کمرشل مقامات کی دوبارہ نشاندہی کی جائے۔ کھوکھا مالکان اور چھوٹے کاروبار والوں کو ریگولرائز کیا جائے اور تجاوزات کا خاتمہ کر کے خوبصورت انداز سے بلڈنگز کے فرنٹ مزین کیے جائیں۔

سیاست چمکانے والوں سے گزارش ہے کہ میرٹ پر کام کر کے چھوٹے بزنس میں کو تحفظ دیا جائے تا کہ یہ مسائل بار بار پیدا نہ ہوں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481