Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

باد نسیم …… شعیب بن عزیز

a1d631a0 b7d9 4327 ab9e 600d6be57ca7

میں نے کتابیں خریدنا بہت کم کر دیا ہے۔ واحد وجہ یہ کہ میری سٹڈی کی وسعت مزید کتابوں کی متحمل نہیں رہی۔ جمخانہ یا کسی اور لائبریری سے کتاب لے کر لوٹا دیتا ہوں۔ لیکن بعض کتابیں ایسی ہیں کہ تنگئی داماں کے باوجود انہیں اپنے پاس محفوظ نہ رکھنے پر دل آمادہ نہیں ہوتا۔ یاسر جواد کی نئی کتاب “ تہذیب کی کہانی”، جو کہ ول ڈیورانٹ کی The story of civilisation کا ترجمہ ہے ایسی ہی کتابوں میں سے ایک ہے۔

ترجمے کی وادی کے مسافروں کو جن دشوار گزار اور کٹھن راستوں سے گزرنا پڑتا ہے ، انکی مشکلات کا اندازہ صرف یہ مسافر ہی کر سکتے ہیں۔ بہت جلد بھلا دئے جانے والے باکمال شاعر باقی صدیقی نے کہا تھاکہ
دوستی خون جگر چاہتی ہے
کام مشکل ہے تو رستہ دیکھو
ترجمے کےفن کی دیوی بھی” دوستی “ کی طرح خون جگر سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتی۔ یاسر اس حقیقت کا راز پا چکا ہے۔

1ad607c1 e205 4cc7 bd03 8b711b185f29
ما ضی قریب میں ہونے والے کئی ترجموں کو دیکھتا ہوں تو افسوس کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آتا ہے۔ افسوس کم اور غصہ زیادہ۔ اس کیفیت کو بڑھاپے کی علامت جان کر زیر لب مسکرانے والے احباب کاش کبھی ایسے صبر آزما مرحلے سے گزر کے دیکھیں۔ زبان و بیان ،ابلاغ اور متن سے وفاداری کے تقاضے تو ایک طرف ان تراجم میں مصنف کے نفس مضمون کی نسبت سے متناقص ہی نہیں ،متصادم مثالیں بھی آپکو مل جائیں۔ یعنی من چہ می سرائیم و طنبورہ من چہ می سراید

سر حد سے اس طرف بھی مضمون واحد ہے۔ حال ہی میں بھارت میں شائع شدہ ایک سیاسی رہنما کی سوانح کا اردو ترجمہ نظر سے گزرا۔ بارہ کے بارہ شرعی عیب اس میں موجود ۔ سات عیبوں کا اضافہ میں نےAntoine Bern کی روح کو ثواب پہچانے کے لئے کیا ہے۔ جی ہاں ! ایک عالم میں فن ترجمہ کی تنقید و تحسین میں حرف آخر سمجھے جانے والے فرانسیسی محقق، مورخ اور نقاد اے برن۔ انہوں نے ترجمے کے حسن و خوبی اور متقاضیات کے حوالے سے جن پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی تعداد بارہ ہی بنتی ہے۔

تصنیف و تالیف کی غارت گری کے اس دور میں یاسر جواد جیسے مترجمین اور مصنفین کی کوئی تخلیق سامنے آنا ایسا ہی ہے ع جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم ۔یاسر جواد کی اس کاوش کے معنوی اور صوری حسن کی گواہی ہر سنجیدہ قاری باآواز بلند دے گا۔ ۔۔۔ میری آواز کو بھی ان آوازوں میں شامل سمجھئے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481