شہریارآفریدی کو رہائی کےفوری بعد پھر کیوں گرفتارکیا گیا؟
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر مملکت شہریارآفریدی کو رہائی کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریارآفریدی پر حساس ادارے کے دفتر کے گیٹ پر حملے کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ نیوٹاون میں درج ہے اور اسی مقدمے میں انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز اڈیالہ جیل انتظامیہ نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے حکم پر شہریار آفریدی کو رہا کیا تھا۔ ان کے وکیل چوہدری اشتیاق نے اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریار آفریدی کو پنجاب پولیس نے جیل سے نکلتے ہی ایک بار پھرگرفتار کیا ہے، انہیں بات نہیں کرنے دی گئی۔
قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے شہریار خان آفریدی، ان کے بھائی فرخ آفریدی،خاتون رہنما نادیہ حسین اور شاہ جہاں کی نظر بندی غیر قانونی قرار دے کر چاروں کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔جسٹس انوار الحق پنوں نے درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چاروں رہنماؤں کی 15 روز نظر بندی کے ڈپٹی کمشنر کے احکامات کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کسی کو غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کی اجازت نہیں دے گی۔

